انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 608 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 608

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۰۸ سورة الطارق ہے۔ان کے بدلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے آدمی ملنے چاہئے تھے جنہیں قرآن کریم حفظ ہوتا تبھی تو ان کی سازش ناکام ہوتی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بے شمار مسلمانوں کو قرآن کریم حفظ کرنے کی توفیق بخشی۔چھوٹی چھوٹی فوجیں باہر جاتی تھیں اور ان کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں حفاظ ہوتے تھے۔( اب مشکل پڑ گئی ہے کیونکہ لوگوں نے قرآن کریم سے وہ پیار نہیں کیا۔ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک رو شروع ہوئی ہے ) جس کا مطلب یہ ہے کہ بڑی کثرت سے لوگ قرآن کریم حفظ کرتے تھے اور اگر کسی کو پورا قرآن کریم حفظ نہیں تھا تو بڑی بڑی سورتیں اور کئی کئی سپارے یاد ہوتے تھے حتی کہ چھوٹے بچوں کو بھی بہت سی سورتیں یاد ہوتی تھیں ( ہمارے گھروں میں بھی اس کا شوق پیدا کرنا چاہئے۔دس پندرہ سال کے بچوں کو آخری سیپارے کی چھوٹی چھوٹی سورتیں ضرور یاد کروا دینی چاہئیں) پس کفار نے دھوکہ دہی سے قرآن کریم کے حفاظ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس طرح اسلام کو ستر حفاظ سے محروم کر دیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ ٹھیک ہے یہ زندگی تو ہے ہی عارضی کوئی آدمی بستر پر مر جاتا ہے اور کوئی اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جاتا ہے تم نے اسلام کو ایسے ستر مخلصین سے محروم کیا تھا جنہیں قرآن کریم زبانی یاد تھا اور اس وقت تو مسلمانوں کی تعداد بھی تھوڑی تھی۔حفاظ کے قتل کا یہ واقعہ سن چار ہجری کا تھا فتح مکہ کے موقع پر مسلمان مردوں کی تعداد دس ہزار تھی جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت یافتہ تھے۔تو چار ہجری میں تو بہت ہی کم ہوں گے اور اس وقت حافظ قرآن بہت تھوڑے تھے۔ان میں سے کفار نے اپنی طرف سے بہت سارے شہید کر دیئے لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لاکھوں کی تعداد میں حفاظ دیئے اور اب تک دیتا چلا آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انتقام کی صفت کا جب وقت آئے گا میں اس کا جلوہ دکھاؤں گا۔تم بھی اس کا رنگ اپنے اندر پیدا کرو لیکن ابتدائی زمانہ میں تو بالکل اور بعد میں بہت حد تک تمہارے اندر عفو کی صفت کے جلوے نظر آنے چاہئیں۔انتقام لینے کا جب موقع پیدا ہو گا اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی اجازت دے دے گا۔مسلمان بھی عجیب قوم ہے۔اللہ تعالیٰ نے درخت کاٹنے کی اجازت دے دی شاید نو درخت کاٹے گئے تھے اور یہ کوئی بات نہیں۔یہاں ایک جانگلی جا کر نونو ، دس دس درخت کاٹ دیتا ہے اور اسے اسکا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا لیکن مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ