انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 609
۶۰۹ سورة الطارق تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث نے عجیب دل اور دماغ دیا تھا۔اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ یہ میرے بندے مجھ میں فنا ہیں یہ میری اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرتے۔میں نے کہا ہوا ہے کہ درختوں کو نہیں کاٹنا چاہئے کیونکہ اگر اس کا رسم و رواج پڑ جائے تو اس سے بنی نوع انسان کو تکلیف ہوتی ہے۔اس واسطے جہاں ضرورت پڑی وہاں یہ کہ دیا کہ میری طرف سے اجازت ہے چنانچہ حدیثوں کی بجائے خود قرآن کریم میں اس کا ذکر فرما کر اسے بنیادی اصول بنا دیا۔غرض فرمایا کہ تم نے انتقام نہیں لینا میں خود انتقام لوں گا چنانچہ جب یہ سارے اپنی ناسمجھی اور جہالت کے نتیجہ میں ”بے دینوں (جو کہ حقیقی دین کے حامل تھے ) کے خلاف جمع ہوئے تو خدا نے فرمایا تم نے انتقام نہیں لینا۔میں نے قران عظیم میں یہ کہا تھا اکید كیدا آج میں دنیا کے سامنے تمہارے ذریعہ سے اپنی اس تدبیر کا مظاہرہ کرنے لگا ہوں جس میں تمہارے ہاتھ کا کوئی دخل نہیں ہے۔چنانچہ وہ اجتماع جو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے نتیجہ میں عمل میں آیا تھا وہ کسی انسانی دخل کے بغیر راتوں رات غائب ہو گیا۔مسلمانوں کو پتہ ہی نہیں لگا۔صبح اٹھے تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔خدا تعالیٰ نے كُلّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَان کی رو سے اپنی ایسی تقدیر چلائی کہ وہ خود ہی بھاگ گئے۔خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۴۰۵ تا ۴۲۰)