انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 607
تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۶۰۷ سورة الطارق تمہیں انجام کار فائدہ پہنچے گا یعنی ان کی اس ”کید“ یعنی سازش کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ جو کید یعنی تدبیر کرے گا وہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے گی۔غرض کفار مکہ نے اغوا کا منصوبہ بنایا اور اس طرح بیسیوں مسلمانوں کو اس تربیت سے محروم کیا جسے وہ حاصل کرنا چاہتے تھے یا اس تربیت سے محروم کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو اپنے پروں کے نیچے رکھ کر دینا چاہتے تھے اور یہی اغوا ہے۔غرض مسلمانوں کے خلاف ایک اس قسم کے اغوا کا منصوبہ بنایا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم اغوا کا یہ منصوبہ بناؤ ہم اسے ناکام بنادیں گے البتہ جس طرح اغوا کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ جو قادر وتوانا ہے اس کا کوئی جلوہ Repeat (ری پیٹ ) نہیں ہوتا ( یعنی دہرایا نہیں جاتا) یعنی اس میں Monotony (مونوٹنی اکتا دینے والی یکسانیت) نہیں پیدا ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے جلوے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن:٣٠) کی رو سے کبھی ایک شکل میں اور کبھی دوسری شکل میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں چنانچہ کفار کے اس اغوا کے منصوبہ کے خلاف اللہ تعالیٰ تدبیر کرتا رہا اور ان کو اس منصوبے میں ناکام بنا تا رہا اور جب تک ایک مومن یا مسلمان کو اسلام پر قائم رہنے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیق ملتی رہتی ہے یا جن کو ملتی ہے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرتا ہے جیسا کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے کیا تھا۔کفار کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں کے خلاف دوسری ”کید“ (یعنی تدبیر یا سازش ) یہ تھی کہ وہ مسلمانوں کو دھوکے سے قتل کر دیتے تھے۔اب دھو کے سے قتل کر دینا کئی شکلوں کا ہوتا ہے مثلاً ایک یہ کہ پیٹھ کی طرف سے آ کر پیچھے سے چھرا گھونپ دینا، یہ بھی دھو کے کا قتل ہے اور دین سیکھنے کا بہانہ بنا کر سر حفاظ کو لے جانا اور وہاں انکو شہید کر دینا یہ بھی دھو کے کا قتل ہے یا مثلاً ۷ ۱۹۴ء میں ہندو اور سکھ مسلمانوں کی ریل گاڑیوں کو پٹڑیوں سے نیچے اتار دیتے تھے یہ بھی دھو کے کاقتل ہے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے خلاف دھو کے سے قتل کرنے کی بھی سازش ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔اگر ایک مسلمان دھوکے سے قتل ہوا تو اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اس جیسے ہزاروں مسلمان دے دیئے مثلاً یہ حفاظ کا قتل ہے یہ ستر آدمیوں کا قتل نہیں بلکہ ستر حفاظ کا قتل