انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 591
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۹۱ سورة الانشقاق اس آیہ کریمہ سے پہلے سورۃ انشقاق میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان اپنی مادی ترقیات کے لئے انتہائی کوشش کرے گا پانی کی طرح وہ اپنا روپیہ بہائے گا۔مادی ترقیات کے لئے وہ جس قدر بھی ضرورت ہوگی جان تلف کرنے میں بھی دریغ نہیں کرے گا۔زمین اور آسمان کے راز دریافت کرنے کی انتہائی کوشش بھی کرے گا اور ایک حد تک کامیاب بھی ہوگا اور اس کثرت سے نئی دریافتیں ظاہر ہوں گی کہ انسان یہ سمجھنے لگے گا کہ شاید اس نے خدائی کے سارے ہی راز معلوم کر لئے ہیں اور اب کوئی چیز ایسی باقی نہیں رہی کہ جس کے دریافت کرنے کی اسے ضرورت ہو زمین کو چھوڑ کر اور زمین کی وسعتوں میں تنگی محسوس کرتے ہوئے وہ آسمان کی طرف رجوع کرے گا۔اور زمین کے ان ٹکڑوں تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔جو کسی وقت اللہ تعالیٰ کے قانون کے ماتحت زمین سے علیحدہ ہوئے اور علیحدہ کرے انہوں نے بنائے۔جن کا تعلق نظام شمسی سے ہے اور جس طرح زمین کی مختلف اشیاء سے وہ فائدہ اُٹھا رہا ہے۔اسی طرح اس کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ آسمان کے ان ستاروں سے بھی فائدہ اٹھائے اور اس طرح اپنی زمین میں ایک وسعت پیدا کرے اور اس کو پھیلا دے۔پس انسان کا دماغ اس وقت اس کام میں لگا ہوا ہو گا کہ وہ زمین کے راز بھی زیادہ سے زیادہ حاصل کرے اور زیادہ سے زیادہ ان رازوں سے فائدہ اُٹھائے اور آسمان کے ستاروں پر بھی وہ کمند ڈالے گا اور ان تک پہنچنے کی کوشش کرے گا اور ان سے اسی طرح فائدہ اٹھانے میں مشغول ہو گا جس طرح کہ زمین کی مختلف چیزوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔پھر یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرزند جلیل مامور اور مبعوث کئے جائیں گے۔اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے اور توحید خالص کے قیام کے لئے آسمان سے بڑی کثرت کے ساتھ نشان ظاہر ہوں گے۔اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ایک دنیا خدا کو بھول چکی ہو گی۔خدا کی منکر ہوگئی ہوگی۔دہریت کو انہوں نے اختیار کرلیا ہوگا۔چونکہ دلائل کے مقابلہ میں آسمانی نشان دہر یہ قسم کے لوگوں پر زیادہ اثر کرتے ہیں اور جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ وہی آسمان سے نازل کرتا ہے۔تو جہاں یہ فرمایا کہ کثرت کے ساتھ