انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 590
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۹۰ سورة الانشقاق ذمہ داری ہے وہ کسی دوسرے پر الزام نہیں دھر سکتا کہ فلاں کی وجہ سے اسے خدا کا پیار نہیں ملا۔اگر اسے خدا کا پیار نہیں ملا تو اس کی کسی اپنی کوتاہی کی وجہ سے نہیں ملا کیونکہ خدا کے پیار اور اس کے پیار کے درمیان جیسا کہ میں نے کہا ہے کسی اور کی طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔خدا پیار کرنا چاہے اور غیر اللہ میں سے کوئی ہستی اس پیار میں روک بن جائے۔اس کائنات میں خدا نے انسان کو عبد بننے کے لئے پیدا کیا ہے اگر وہ خدا عبد بن جائے تو وہ ساری برکتیں اسے مل جاتی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے اور اگر وہ ایسا نہ بنے یعنی عباد الرحمن میں شامل نہ ہو تو اس کا وہ خود ذمہ دار ہے کسی اور پر اس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور نہ کسی اور کو مجرم قراردیا جاسکتا ہے۔اگر کسی کا جرم ہے تو اس نے نقصان اٹھانا ہے اور اگر کسی نے کچھ پانا ہے تو اس نے پانا ہے۔لَا يَضُرُّكُم مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُم (المائدة :۱۰۶) ہدایت پر اس نے خود قائم رہنا ہے۔ساری دنیا بھی اگر خدا سے دور ہو جاتی ہے اور ایک فرد واحد خدا کے حضور روحانی رفعتوں کو حاصل کر رہا ہے تو ساری دنیا کی دوری اس کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی کو دیکھ لو دعوی نبوت سے پہلے بھی آپ خدا کے حضور جو گریہ وزاری اور عبادتیں کرتے رہے وہ بتاتی ہیں کہ اس وقت حقیقی معنے میں خدا تعالیٰ کا ایک ہی عبادت گزار بندہ تھا آپ کے سوا ساری دنیا غفلت میں پڑی ہوئی تھی۔کوئی تکبر میں پڑا ہوا تھا۔کوئی اباء اور استکبار میں پڑا ہوا تھا۔کوئی خدا کے خلاف بغاوت میں لگا ہوا تھا صرف وہی ایک بندہ تھا جو خدا کے حضور جھکا ہوا تھا۔پھر اس وقت جب کہ ہر انسان خدا سے دور تھا، خدا نے اسی ایک بندے سے پیار کیا اور اتنا پیار کیا کہ اور انسان کے حق میں نظر نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ نے اتنا پیار کیا ہو یا کسی اور انسان کو خدا تعالیٰ کا اتنا پیار ملا ہو یا خدا تعالیٰ کی طرف سے اتنی نعمتیں ملی ہوں یا اتنی عزت قائم ہوئی ہو جتنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی۔پس وہ جو اکیلا تھا کروڑوں کروڑ لوگ اس پر درود بھیجنے والے پیدا ہو گئے اور قیامت تک پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔غرض یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان خود اپنا ذمہ دار ہے۔کسی انسان کو خدا تعالیٰ کے پیار سے روکنے کی کوئی اور انسان طاقت نہیں رکھتا۔اسے اگر پیار ملتا ہے تو إِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا فَيُلْقِيهِ کے مطابق ملتا ہے اور اگر وہ خدا کے پیار سے محروم رہتا ہے تو اس محرومی کی ذمہ داری اس کے اپنے نفس پر ہے کسی اور پر نہیں۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۹۳ تا ۲۹۷)