انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 47
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۷ سورة الاحزاب آیت ۱۰ تا ۱۲، ۱۸،۱۶ ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَ تَكُم جُنُودُ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرَانَ إِذْ جَاءُ وَكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَاذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا وَلَقَد كَانُوا عَاهَدُوا اللهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ الْأَدْبَارَ وَكَانَ عَهْدُ اللهِ مسئولان قُلْ مَنْ ذَا الَّذِي يَعْصِبُكُم مِّنَ اللَّهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَ لَا نَصِيرًا ان آیات میں بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں۔اس وقت میں مختصراً دو بنیادی باتوں کے متعلق کچھ کہوں گا۔ایک یہ کہ اُس قسم کے ابتلا اور تشویش اور پریشانی کے حالات میں جیسا کہ جنگ احزاب کے موقع پر پیدا ہوئے تھے یا اُس سے ملتے جلتے حالات ، جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بعد میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں، اُس وقت ایک کامل مومن اور ایک کمزور ایمان والے اور منافق کے درمیان فرق یہ ہوتا ہے جو ظاہر ہو جاتا ہے کہ تظنُّونَ بِاللهِ الظنونا اور اللہ تعالیٰ پر اُن کا گمان دو مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ پر ان کا یقین دو مختلف صورتیں اختیار کرتا ہے۔منافق کا جوایمان یا ایمان کی ٹیگیشن (NEGATION) یعنی نفی اور مومن کے ایمان کی پختگی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے اور جس کی طرف تظنُّونَ بِاللهِ الظُّنُونَا میں اشارہ کیا گیا ہے۔دوسری بنیادی بات یہ بتائی گئی ہے کہ منافق کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (معاذ اللہ ) جھوٹے وعدے کتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے تَظُنُّونَ بِاللهِ الظُّنُّون میں جو بنیادی بات بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ