انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 46 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 46

۴۶ سورة الاحزاب تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث پھر قرآن کریم نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ منکرین یعنی کا فر بھی آگے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔اُن کا بھی ہمیں تجزیہ کرنا پڑے گا لیکن اس وقت میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنے اصلاح وارشاد اور تبلیغ و اشاعت اسلام کے کام کا از سر نو جائزہ لے کر اس میں تیزی پیدا کرنی چاہیے ان طریقوں سے جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائے ہیں۔اب مثلاً ایک دہریہ شخص ہے ہمارے پاکستان میں بھی اشتراکیت کے بڑے نعرے لگ رہے ہیں۔اگر ایسے شخص کے سامنے آپ جا کر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ پیش کریں تو وہ کہے گا میں خدا تعالیٰ کو مانتا نہیں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ کو کیسے مان لوں۔پس جب ہم ایسے لوگوں کے پاس جائیں گے تو ان کے سامنے خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں وہ دلائل پیش کریں گے جو قرآن کریم نے دیئے ہیں اور جنہیں اگر کسی کے سامنے صحیح طور پر پیش کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ کوئی عقلمند انسان انکار نہیں کر سکتا۔پھر اُن پر یہ ثابت کریں گے کہ اُخروی زندگی بھی ماننی پڑے گی۔ورنہ اس دنیوی زندگی کا کوئی مزہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے۔اُس نے ہمیں گدھے کتے اور سور تو نہیں بنایا۔ہمارے اندر ہماری فطرت میں ایک ارج (URGE ) رکھی گئی ہے۔ایک جذبہ پیدا کیا گیا ہے۔کہ ہم اُخروی زندگی کے لئے کام کریں۔اگر اُخروی زندگی نہیں تھی تو پھر جو فطرت کے اندر ایک جذبہ ہے یہ خود بخود کیسے آ گیا۔سو راور کتے میں کیوں نہیں آیا۔پھر کفر کفر میں فرق ہے۔قرآن کریم نے اسے بیان کیا ہے۔قرآن کریم کی تفسیر میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا ہے اسی طرح نفاق نفاق میں فرق ہے کسی آدمی کا دل پتھر کی طرح سخت ہوتا ہے اس کے دل کو نرم کرنے کے لئے وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ پر عمل کرنا پڑے گا۔کسی کے متعلق فرمایا کہ ان کے کان بہرے یا ان کے کانوں میں ثقل اور بوجھ ہے۔یا کسی کے متعلق فرما یا وہ اندھے ہیں۔اُن کی آنکھیں نہیں۔پس جس شخص کا کفر یا نفاق اندھے آدمی کے مشابہ ہے۔پہلے اس کی بینائی کی فکر کرنی پڑے گی۔یعنی وہ طریق اختیار کرنا پڑے گا جس کی اسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے جو آدمی سنتا نہیں اسکے سامنے وہ تعلیم پیش کرنی پڑے گی جو قرآن کریم نے یہ کہ کر ہمارے سامنے رکھی ہے کہ جو نہیں سنتے اُن کے سامنے یہ تعلیم رکھو۔خطبات ناصر جلد چهارم صفحه ۲۴۰ تا ۲۴۹)