انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 48
۴۸ سورة الاحزاب تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث منافق کا خدا تعالیٰ پر یقین یا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا خیال یا اس کے وعدوں کے متعلق یا اس کی قدرتوں کے متعلق یا اس کی صفات کے متعلق اس کا ایمان ایک مومن کے ایمان سے بہت مختلف ہوتا ہے۔جو منافق ہے وہ ابتلا کے وقت یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (نعوذ باللہ ) جھوٹا وعدہ کیا ہے۔وہ یہ تو تسلیم کرتا ہے کہ کوئی پیشگوئی کی گئی تھی یا کوئی وعدہ کیا گیا تھا لیکن جب ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ ڈ نیوی لحاظ سے بظاہر کامیابی اور بقا اور استحکام کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تو منافق کہہ دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ جھوٹا ہے۔تمہیں اس نے وعدے تو کچھ اور دیئے مگر آج کچھ اور نظر آ رہا ہے لیکن مومن ایسا نہیں ہوتا۔اُس کے اظہار ایمان کے گو مختلف رنگ ہوتے ہیں۔تاہم ایسے حالات میں مومن تو یہ کہتا ہے جیسا کہ بعد کی آیات میں ذکر کیا گیا ہے ) کہ جو خدا تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔مومن ابتلا کا احساس رکھتے ہوئے اس کا مشاہدہ کرتے ہوئے اور اس کے باوجود کہ شکنجے میں وہ اپنے آپ کو جکڑا ہوا پاتا ہے کہتا ہے کہ جس خدا نے ہمیں یہ فرمایا تھا کہ اس قسم کے پریشان کن حالات پیدا ہوں گے اسی نے یہ کہا تھا کہ میں ان پریشان کن حالات میں تمہیں کامیاب کروں گا اور تمہیں نجات دوں گا۔اس واسطے پہلی بات جب پوری ہوئی تو دوسری بھی پوری ہوگی۔خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۵۳۱، ۵۳۲) جیسا کہ میں نے بتایا ہے مسلمانوں کے لئے بہت سے امتحان اور آزمائشیں ہوتی ہیں لیکن جن آزمائشوں کا بطور خاص میں اس وقت ذکر کر رہا ہوں وہ مادی طاقت اور زور کے ساتھ اور مادی ذرائع سے دشمن کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل اور اسلام کو مٹانے کا منصو بہ اور آزمائش ہے یعنی یہ آزمائش کہ دشمن مٹانا چاہتا تھا لیکن مسلمانوں نے صبر و ثبات دکھایا اور دشمن ناکام ہوا مثلاً جنگ احزاب ہے جس کا ان آیات میں ذکر ہے جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمانوں نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ دشمن کو پیٹھ نہیں دکھا ئیں گے خواہ کیسے ہی حالات کیوں نہ پیدا ہو جا ئیں۔وہ ہر صورت میں دشمن کا مقابلہ کریں گے اور اسے پیٹھ نہیں دکھا ئیں گے چنانچہ کیسے ہی حالات احزاب کے موقع پر پیدا ہو گئے۔قریباً سارا عرب اکٹھا ہو کر ان غریبوں اور مفلسوں اور نہتوں کو قتل کرنے کے لئے وہاں جمع ہو گیا اور اُنہوں نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ بھوک کے مارے وہ پیٹ پر