انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 42
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۲ سورة الاحزاب ترقی میں رخنہ ڈالتے ہیں۔جس طرح پانی آہستہ آہستہ بنیادوں میں مار کرتا ہے اور مکان کو گرا دیتا ہے اسی طرح ان کا اثر بھی آہستہ آہستہ رونما ہوتا ہے۔ان کی خفیہ طور پر یہ کوشش ہوتی ہے کہ الہی سلسلوں میں کمزوری پیدا ہو۔ایسے لوگ ظاہر میں مسلمان بھی ہوتے ہیں اور ایمان کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔یہ دونوں فتنے یا اسلام کے خلاف دونوں قسم کے منصوبے اتنے خطرناک ہیں کہ کفر کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے لئے پختہ ایمان کی ضرورت ہے۔ورنہ پاؤں ڈگمگا جائیں گے۔دوسرا نفاق کا فتنہ ہے اس فتنہ سے بچنے کے لئے جہاں بڑی ہمت درکار ہے وہاں اس سے بچنا ایک اچھا نمونہ چاہتا ہے۔کیونکہ جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔منافق مصلح کے روپ میں آتا ہے وہ دوست کی شکل میں سامنے آتا ہے وہ ایک پیار کرنے والے ساتھی یا بھائی کی شکل میں سامنے آتا ہے وہ اپنے آپ کو چھپاتا ہے۔اس کا ظاہر بڑا حسین مگر اس کا باطن ہر لحاظ اور ہر رنگ میں نہایت بے ہودہ، بھیانک اور بدصورت ہوتا ہے۔غرض اس آیت کے لفظی اور ظاہری معنے یہ بنتے ہیں کہ اے نبی ! کافرانہ منصوبوں اور منافقانہ ریشہ دوانیوں سے اسلام کو بچانے کی خاطر حفاظت کا ذریعہ خدا تعالیٰ کو بناؤ اور مسلمان کو یہ کہا ( جب میں یہ کہتا ہوں تو میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مسلمان بہر حال زیادہ ہو گئے ہیں۔اس لئے فرمایا ) تم بہت ہو گئے۔پھر تم مخالفین سے کیوں ڈرتے ہو۔فرمایا: - لَقَد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: ۲۲) تمہارے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ موجود ہے۔آپ اکیلے تھے مگر مخالفین سے بالکل نہیں ڈرے۔حالانکہ کفر کے سارے منصوبے آپ کے خلاف اور کفر کے سارے وار آپ کی ذات پر تھے۔ہر قسم کی مخالفتوں کا آپ ہی نشانہ تھے۔اس وقت بندوق تو نہیں تھی۔مگر ہر تلوار جو میان سے باہر نکلتی اور وار کرتی تھی اس کا مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن ہوا کرتی تھی۔فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کو دیکھو۔آپ اکیلے تھے مگر آپ نے کافروں کی کبھی پرواہ نہیں کی۔آپ اکیلے تھے اور آپ نے منافقوں کا مقابلہ کیا۔حالانکہ اللہ تعالی کی طرف سے آپ کو بہت سے منافقین کے متعلق اطلاع دی گئی تھی۔لیکن آپ نے اپنے ساتھیوں اپنے بھائیوں اور دوستوں کو بتایا نہیں تھا۔آپ نے اکیلے ہی منافقین کے ساتھ مہم جاری رکھی۔آخر جب نشانے کا پتہ ہی نہ ہو تو نشانہ لگانے میں کوئی دوسرا آدمی تو شریک نہیں ہو سکتا تھا۔جب اس بات کا کسی کو پتہ نہیں تھا کہ وار