انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 43
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۳ سورة الاحزاب کہاں سے آ رہا ہے۔تو دوسروں کیلئے اس کے روکنے اور ناکام بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔منافقین کے متعلق صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ تھا اس لئے آپ نے خود ہی ان کا مقابلہ کیا۔یہی کہنا پڑے گا اور یہی معقول بات ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے کا فروں کا بھی مقابلہ کیا اور منافقوں کا بھی مقابلہ کیا۔اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی صلوت آپ پر ہمیشہ ہمیش ہوتی رہیں (کسی اور پر نہ اتنی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوئیں اور نہ ہوں گی ) اللہ تعالیٰ کی وہ محبت اور پیار آپ کو حاصل ہوا جو کسی اور آدمی کو حاصل نہیں ہوا۔اور یہ اللہ تعالیٰ کی وہ محبت اور پیار ہے جو امت مسلمہ چودہ سو سال سے آپ کے لئے مانگتی چلی آ رہی ہے۔اور قیامت تک مانگتی چلی جائے گی۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے ایک عظیم نمونہ ہیں۔آپ کافروں کے مقابلے میں اکیلے کھڑے ہو گئے۔آپ کے مخلص ساتھی تھے مگر آپ نے اُن کو نہیں بتایا کہ خدا تعالیٰ نے کن کن منافقوں کے متعلق اطلاع دی ہے کہ یہ لوگ منافق ہیں اور ان کا مقابلہ کرنا ہے۔آپ نے ایک آدھ آدمی کو بتایا اور وہ بھی اس لئے کہ اُس نے آپ کے بعد ایک لمبے عرصہ تک زندہ رہنا تھا۔اس کو علیحدہ کر کے اور اعتماد میں لے کر اور اس سے وعدہ لے کر کہ وہ آگے اس بات کو عام نہیں کرے گا منافقین کے متعلق بتا دیا کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ میری وفات کے بعد منافقین کی ریشہ دوانیاں ہوں گی۔اس لئے کوئی نہ کوئی آدمی تو گواہ رہنا چاہیے تا کہ وہ بوقت ضرورت گائیڈنس دے سکے۔اور امت کو اُن سے متنبہ کر سکے۔جب ایسا شخص نگا ہو کر باہر آ جائے۔( منافق بعض دفعہ نگا ہو کر سامنے بھی آ جاتا ہے ) تو اس وقت لوگوں کو بتا سکے کہ یہ مومن نہیں یہ منافق ہے۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ منافقین کے خلاف بھی اصل جنگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے لڑی ہے۔پس اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ اور بھی دو گروہ ہیں۔ایک منکرین اسلام کا گروہ ہے اور دوسرا منافقین کا گروہ ہے۔منکرین اسلام کے ساتھ ہمارا جو مجادلہ ہے اور ان کو مغلوب کرنے اور اسلام کو غالب کرنے کے لئے جو ہماری جنگ اور جہاد ہے وہ اور قسم کا ہے اور جو منافق کے ساتھ ہماری جنگ ہے وہ اور قسم کی ہے ویسے اصولاً تو ہم تلوار کے ساتھ جنگ نہیں کرتے ہم نے تو ان کی روح کو اپنے قبضے میں لینا ہے ان کے جسموں کو چیلوں کے آگے ڈالنا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ہم نے ان کی