انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 41
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة الاحزاب اس کی طبیعت میں نہیں ہوتی وہ کسی رنگ میں صاف اور سیدھا نہیں ہوتا۔نہ قولِ سدید کا پابند اور نہ یاسی رنگ میں ساف صراط مستقیم پر چلنے والا ہوتا ہے۔ان دو گروہوں کے متعلق بھی قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر تفصیلی طور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس مضمون کو میں اپنے وقت پر انشاء اللہ بیان کروں گا۔لیکن یہاں یہ بتادینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یایھا النَّبِيُّ اتَّقِ الله میں دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی طرف اشارہ ہے۔تقویٰ کے معنے ہیں جو چیز ایذا دینے والی یا ضرر پہنچانے والی ہے اس سے حفاظت کرنا۔ان چیزوں سے حفاظت کا نام وقایۃ ہے۔عربی کے بعض قواعد کے لحاظ سے واؤ۔ت سے بدل جاتی ہے۔اس کا اصل مصدر وقتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا ہے کہ کافروں کو دیکھو، وہ تعداد میں زیادہ، دنیوی سامانوں میں زیادہ ، جتھہ بندی میں زیادہ، سیاسی اقتدار میں زیادہ اور رعب میں زیادہ ہیں۔پھر تاریخی روایات ان کے حق میں زیادہ ہیں۔جہاں تک تاریخی روایات کا تعلق ہے وہ ان کے نتیجہ میں کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے آباؤ اجداد کو ایسے عقائد کا پابند نہیں پایا۔ان کو تو ہم نے بتوں کی پرستش کرتے ہی دیکھا ہے۔ان کو تو ہم نے یہ کرتے اور وہ کرتے دیکھا ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ شیطان ان کو اس قسم کی احمقانہ بات بھی سکھا سکتا ہے کہ ہم نے تو اپنے بڑوں کو ہر رسول کی مخالفت کرتے دیکھا ہے۔ہم نے ہر رسول کا انکار کرتے دیکھا ہے اور ہم نے ہر رسول کا استہزاء کرتے دیکھا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے بھی کہا ہے کہ جو بھی رسول آیا۔خدا کے بندوں میں سے بہتوں نے شروع میں اس سے استہزاء ہی کیا۔بہر حال ایک تو یہ گروہ ہے جو جتھے میں زیادہ، مال میں زیادہ، سیاسی اقتدار میں زیادہ، رعب میں زیادہ ، رعب کے غلط فوائد حاصل کرنے میں زیادہ ہوتا ہے۔( مسلمان تو اپنے اقتدار اور اثر ورسوخ کا غلط فائدہ اٹھا ہی نہیں سکتے ) اور پھر اسلام کے خلاف منصوبہ انتہائی طور پر خطرناک اور دل میں بڑی سخت مخالفت کہ اسلام کو مٹادینا ہے۔دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جو ظاہر میں اسلام لے آتے ہیں۔لیکن اندر ہی اندر ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے ہیں۔وہ اندر سے اسلام کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔وہ اسلام کی