انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 495
تفسیر حضرت خلیفہ اسیح الثالث ۴۹۵ سورة الملك دیکھتے ہیں اور نئے اجزا اس کے جسم میں بصورت غذا داخل ہوتے ہیں جن کو ہضم کرنا پڑتا ہے یہ اس کی زندگی ہے۔ساتویں معنی زندگی کے بدن اور روح کے تعلق کے ہیں۔جسم اور روح کے اتصال کو قرآن کریم نے حیات کہا ہے اور جب یہ اتصال باقی نہ رہے اور قوت حیوانیہ کا زوال ہو جائے اور بدن سے روح جدا ہو جائے تو اس کا نام موت ہے۔اس سارے مضمون میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ موت وحیات کو جس معنی میں بھی قرآن کریم نے لیا ہے اس میں بہت سی برکتیں اور رحمتیں پوشیدہ ہیں اس کی برکتوں اور رحمتوں کے حصول کی جگہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔یہ رحمتیں و برکتیں صرف اُس سے مل سکتی ہیں اور کہیں سے نہیں۔اسی طرح عقل یا قوت عاقلہ کا ہونا بھی زندگی ہے عقل بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اور عقل کے ذریعہ سے جو نعمتیں حاصل ہو سکتی ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے حاصل ہوتی ہیں۔وَهُوَ عَلَى كُلِ شَيْءٍ قَدِيرُ - اسی طرح اگر موت نہ ہوتی اور صرف اس ورلی دُنیا کی زندگی ہوتی تو روحانیت بھی نہ ہوتی اور وہ عظیم نعمتیں جن کا تعلق اُخروی زندگی کے ساتھ وابستہ ہے ان کی بھی امید نہ ہوتی تو پھر انسان اور سور میں کوئی فرق باقی نہ رہ جاتا۔پس موت کے ساتھ بھی اسی طرح برکات وابستہ ہیں جس طرح زندگی یا حیات کے ساتھ وابستہ ہیں اور پھر نشونما اور زندگی کے بعض دوسرے حصے ہیں مضمون لمبا ہے مگر چونکہ میری طبیعت خراب ہو رہی ہے اس لئے میں نہایت مختصر کر رہا ہوں۔اصل چیز خیر اور برکت ہے اور یہ چیز میرے اس مضمون کا نتیجہ ہے جو یہاں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے قطع تعلق نہیں ہونا چاہیے چونکہ اللہ سے قطع تعلق یا دوری موت ہے اس کے برعکس تعلق باللہ یا اس سے پیار کرنا اور اس کے حصول کی کوشش کرتے رہنا، یہی زندگی ہے اور اللہ تعالی سے دل اس طور پر لگانا چاہیے کہ مخلوقات میں سے کسی اور کے ساتھ انسان کا تعلق اس طور پر باقی نہ ر ہے۔(خطبات ناصر جلد ششم صفحہ ۷۷ تا ۸۰)