انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 496 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 496

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۴۹۶ سورة الملك بڑی ہی برکتوں والا ہے وہ وجود جس کے قبضہ قدرت میں حاکمیت ہے۔حکومت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اور اس کی عظیم برکتوں کا مظاہرہ اس صداقت میں بھی ہے کہ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيو۔کہ اس نے ایک نظام موت جاری کیا اس کائنات میں اور ایک نظام حیات جاری کیا۔یہاں الموت ہے۔الموت قرآن کریم کی اصطلاح میں دو معنوں میں ہے۔ایک عدم سے وجود میں لانا اور ایک ایسی موت جس کے بعد ابدی زندگی کا حصول مقدر ہے انسان کے لئے۔تو عظیم ہے اللہ جس کی عظیم برکتیں یہ ہیں کہ اس نے ایک ایسی موت کا سلسلہ جاری کیا جس کے بعد ابدی حیات ، انسان کو میسر آتی ہے۔اور والحیوۃ اور ایک ایسی زندگی کا سلسلہ جاری کیا جس پر موت وارد نہیں ہوتی۔موت کو پہلے رکھا اور حیات کو بعد میں۔پہلے جو موت رکھی اس میں موت سے پہلے کی حیات خود ہمارے سامنے آجاتی ہے کیونکہ جو زندہ نہیں وہ مر نہیں سکتا۔تو خَلَقَ المَوت جب کہا۔تو اس کے معنی یہی تھے کہ اس نے زندگی دی اور پھر موت وارد ہوئی۔اور نظام حیات قائم کیا ایک ایسا نظام حیات جو ابدی ہے جس پر کوئی موت وارد نہیں ہوتی۔اس واسطے اس حیات کے بعد کسی موت کا ذکر نہیں کیا گیا اور عظمتیں خدا تعالیٰ کی اس صداقت میں یہ ہیں لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا انسانی زندگی بے مقصد نہیں ہے اور مقصد انسانی زندگی کا یہ ہے کہ انسان ایک ایسی حیات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے جو ابدی ہے۔ایک ایسی زندگی پانے میں وہ کامیاب ہو جس زندگی میں خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں نازل ہوتی ہیں اور جس زندگی میں یہ نعمتیں جو ہیں یہ زندہ نعمتیں درجہ بدرجہ بڑھتی چلی جاتی ہیں۔یہ حیوۃ ایک خاص قسم کی حیات۔آئی جو ہے وہ مخصوص کرتا ہے الحیوۃ کو یعنی وہ حیات جس کا ذکر بڑی تفصیل سے قرآن کریم نے متعدد جگہ کیا ہے۔ایک ایسی حیات جس کی ہر صبح پہلی شام سے زیادہ روشن اور جس کی ہر شام صبح سے زیادہ حسین ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلوے پہلے سے زیادہ (انسان کی نسبت ) منور ہو کر اور زیادہ پیار والے بن کر اس پر ظاہر ہوتے ہیں۔۔(خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۷۱۵،۷۱۴)