انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 494 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 494

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے فقدان کا نام موت رکھا ہے۔۴۹۴ سورة الملك ایک تو قوت نامیہ ہے یعنی نمو کی قوت ، جو قرآنی محاورہ میں حیات کہلاتی ہے اس کا تعلق انسان سے، حیوان سے اور نباتات سے بھی ہے اور اگر ہم زیادہ گہرے چلے جائیں تو اس کا تعلق ہر قسم کی مخلوق سے ہے کیونکہ ہیرے اور جواہرات بھی ایک لمبے عرصے کی نشوونما کے بعد اپنی خصوصیات کے حامل بنتے ہیں اور جب نمو کی قوت اللہ تعالیٰ کے اذن سے زائل ہو جائے یا زائل کر دی جائے تو قرآنی محاورہ کے مطابق اسے موت کہتے ہیں۔دوسرے قرآن کے محاورہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ قوت حاسہ کو بھی زندگی کہا گیا ہے۔انسان جو کچھ محسوس کرتا ہے یا ہم جو کچھ محسوس کرتے ہیں وہ اس کی یا ہماری زندگی ہے۔بعض ایسی حالتیں ہیں جب چش کام نہیں کرتی یا بعض ضروری اور بنیادی حصے کام نہیں کر رہے ہوتے تو قرآن کریم نے اسے بھی موت کہا ہے اگر کسی کو فالج ہوجائے تو قوت حاسہ غائب ہو جاتی ہے۔تیسری قسم کی زندگی جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے وہ قوتِ حاصلہ ہے۔اس کے مقابل قرآنی محاورہ کے مطابق جہالت مطلقہ ، موت ہے۔چوتھے معنی میں حیات کا لفظ قرآنی محاورہ میں اُس خوش حالِ زندگی کا نام ہے، جو د نیوی لحاظ سے کوشش کرنے سے بسا اوقات دُنیا والوں کو کبھی مل جاتی ہے اور کبھی نہیں ملتی۔اس کے مقابلہ میں حزن اور غم ہے جو زندگی کو مکدر کر دیتا ہے۔قرآنی محاورہ میں اسے بھی موت کہا گیا ہے۔پانچویں قرآنی محاورہ میں نیند کو بھی موت کہا گیا ہے اور اس کے برعکس بیداری کو زندگی کا نام دیا گیا ہے یعنی قرآنی محاورہ کے مطابق بیداری کا فقدان موت کہلاتا ہے۔اسی طرح ایک محاورہ پیدا ہو گیا ہے کہ النُّومُ مَوْتُ كَثیف کہ نیند ایک کثیف موت ہے۔وَالْمَوْتُ نَوْمٌ كَثِيرُ کہ موت گہری نیند کا نام ہے۔چھٹے اجزا کی تحلیل کا نام قرآن کریم کے محاورہ میں موت کہلا تا ہے اس کے مقابلہ میں کچھ نئے اجزا کو جو روز مزہ زندگی میں جزو بدن بنتے رہتے ہیں، زندگی سے تعبیر کیا جائے گا اور کچھ اجزا علیحدہ ہوتے رہتے ہیں جو موت کے مترادف ہے اس لئے کہا جاتا ہے فَإِنَّ الْبَشَرَ مَادَامَ فِي الدُّنْيَا يَموتُ جُزْءًا قَلِيلًا کہ دُنیا میں انسان کے اجزا آہستہ آہستہ موت سے ہمکنار ہوتے یا موت کا منہ