انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 40
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۰ سورة الاحزاب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کا ذکر فرمایا ہے جو لوگ خدا تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں وہ رسول پر بھی ایمان لائیں گے۔جو لوگ رسول پر ایمان لائیں گے اور اُخروی زندگی پر ان کو یقین ہوگا۔ان کو فکر ہوگی کہ اس دُنیا کی چند روزہ زندگی کی بجائے اُخروی زندگی کی فکر کرنی چاہیے۔کیونکہ وہ ابدی زندگی ہے۔وہ نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔جس کی نعمتیں بھی اس دنیوی زندگی کے مقابلے میں بہت ہی اچھی ، بہت ہی بہتر اور بہت ہی زیادہ لذتوں اور مسرتوں والی ہیں۔غرض جو لوگ خدا تعالیٰ اور اُخروی زندگی پر ایمان لاتے ہیں۔ان کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی (جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے ) اسوہ حسنہ ہے۔اس طرح جو لوگ خدا تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور اُخروی زندگی پر بھی ایمان رکھتے ہیں مگر مسلمان نہیں وہ آگے دو گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ایک کو قرآنی اصطلاح میں کافر کہتے ہیں اور دوسرے کو منافق کہتے ہیں۔ان ہر دو گروہ نے خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اُخروی زندگی کے لئے دُنیا میں آسمانی ہدایت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے بھی ہر وہ آسمانی ہدایت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے نازل ہوئی اس کا بھی ان میں سے بہتوں نے انکار کیا اور اس کے خلاف بڑی جدوجہد کی اور بڑا مقابلہ کیا یہاں تک کہ اس کے خلاف روحانی جنگ اور بعض موقعوں پر جسمانی جنگ بھی لڑی گئی۔اسی طرح پھر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر نازل ہونے والی شریعت کا بھی انکار کیا گیا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں قرآن اور اسلام کے مقابلے میں بھی دو گروہ ہیں۔ایک کافروں یعنی منکرین اسلام کا گروہ ہے اس گروہ میں شامل لوگ اسلام کا انکار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تو ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول نہیں اُخروی زندگی تو ہے اور اس کے لئے آسمانی ہدایت کی بھی ضرورت تو ہے۔لیکن یہ آسمانی ہدایت نہیں ہے۔جسے تم اسلام کہتے ہو۔ایک دوسرا گروہ وہ ہے جو اسلام میں شامل ہو جاتا ہے۔اس کے شامل ہونے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔بعض لوگ دنیوی لالچ کے لئے شامل ہو جاتے ہیں۔بعض لوگ دنیوی عزتوں کے لئے شامل ہو جاتے ہیں۔بعض لوگ دنیوی مشکلات سے بچنے کے لئے اسلام میں شامل ہو جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔وہ اسلام میں شامل تو ہو جاتے ہیں۔لیکن حقیقی ایمان نہیں لاتے۔ان کی زبان پر ایمان کا لفظ ہوتا ہے لیکن دل میں ایمان نہیں ہوتا ایسے شخص کو کہتے ہیں کہ وہ دور نگ یعنی منافق ہے۔ایک رنگی