انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 39 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 39

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ ۳۹ سورة الاحزاب بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الاحزاب آیت ا تا ۴ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ياَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللهَ وَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَالْمُنْفِقِينَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًانَ وَ اتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خيران وتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ وَكَفَى بِاللهِ وَكَيْلان پس یہ دو گروہ بن گئے۔ایک دہریوں کا اور دوسرے اُخروی زندگی پر ایمان نہ لانے والوں کا۔ایسے لوگوں کو پہلے تم خدا تعالیٰ کی ہستی کا قائل کرو۔پھر اُخروی زندگی کا قائل کرو اور پھر اُن کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کرو تو اُن پر اثر ہوگا ورنہ نہیں ہوگا۔بہر حال پچھلے جمعہ کو جو میں نے مختصر سا خطبہ دیا تھا، اُسے میں نے خلاصہ کے طور پر بیان کر دیا ہے۔جو آیات میں نے ابھی پڑھی ہیں، ان میں بھی بڑا وسیع مضمون بیان ہوا ہے لیکن چونکہ میری طبیعت خراب ہے۔مجھے اس گرمی میں بھی تکلیف ہو رہی ہے۔اس لئے زیادہ لمبا خطبہ نہیں دے سکتا۔ان آیات میں دو اور گروہوں کا ذکر ہے۔دراصل میں چاہتا ہوں کہ اگر سارے گروہ بیان نہ ہوسکیں تو ان میں سے بنیادی طور پر جو اہم گروہ ہیں پہلے ان کو اور پھر ان کے متعلق قرآن کریم نے جو تعلیم دی ہے اس پر روشنی ڈالوں۔میں بتا چکا ہوں کہ ایک وہ گروہ ہے جو احمد یہ کہلاتا ہے۔دوسرا وہ گروہ ہے جو خدا تعالیٰ کو تو کسی حد تک مانتا ہے لیکن اُخروی زندگی پر ایمان نہیں لاتا۔قرآن کریم کی بہت ساری آیات میں ان کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے بعض آیات کا میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں ذکر کیا تھا۔