انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 487 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 487

۴۸۷ سورة التحريم تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث کرنا شر ہے اور روح القدس جو ہر انسان کی راہنمائی کے لئے انسان کے ساتھ ہے جیسا کہ شروع میں میں نے کہا کہ داعی الی الخیر کی قوت بھی انسان کو عطا ہوئی ہے تو روح القدس کی ہدایت اور راہنمائی میں اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو تلاش کرنا خیر ہے۔شر جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور خیر اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کی طرف لے جاتی ہے اور ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ قوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ نَارًا اس میں دو حکم ہیں ایک قُوا أَنْفُسَكُمُ اور دوسرا قُوا أَهْلِيكُمْ اول اپنے نفس کو بچاؤ نار سے اور ان چیزوں سے جو دوزخ کی طرف اور اللہ تعالیٰ کے قہر کی جہنم کی طرف لے جانے والی ہیں۔پہلے نفس کو جہنم سے بچانے کا حکم ہے اور اسلام میں جو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے وہ اپنے نفس کو نار جہنم سے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے بچانے کی کوشش کو ہی دی گئی ہے۔قُوا أَنْفُسَكُمُ اپنے نفسوں کو بچاؤ۔دوسری جگہ فرما یالا يَضُرُكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ (المائدة : ۱۰۲) کہ اگر تم اپنے نفسوں کو شیطان کے حملوں سے بچا کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو اختیار کر کے اس کی رضا کو حاصل کر لو گے تو جو ایسا نہیں کرتے تم پر کیا فرق پڑتا ہے اخروی زندگی میں یا اس زندگی میں ، جہاں تک جنت کے حصول کا اور اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کا تعلق ہے لیکن اسلام جہاں اس بات پر بہت زور دیتا ہے کہ ہر انسان سب سے پہلے اپنے نفس کا ذمہ دار ہے اور اسے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے نفس کو خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر قسم کی انتہائی کوشش کرے وہاں اسلام نے ایک اجتماعی زندگی کا نقشہ بھی ہمارے سامنے کھینچا ہے اور وہ دوسرے حکم کے اندر آتا ہے کہ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ یعنی اپنے اہل کو بھی نار سے بچانے کی کوشش کرو اور جہنم سے بچانے کی کوشش کرو۔اہل میں رشتہ دررشتہ سارے ہی بنی نوع انسان شامل ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تمہارا باپ ایک ہے یعنی آدم۔تم سب آدم کی نسل سے ہو۔پس اہل کے جو وسیع معنی ہیں اس میں اجتماعی زندگی کا پورا نقشہ آ جاتا ہے۔ہمیں یہ حکم ہے کہ اپنی اجتماعی زندگی کو بھی نار سے بچاؤ۔شیطان کی طرف لے جانی والی کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا سب سے پہلے تعلق انسان کے نفس سے ہوتا ہے مثلاً ہوائے نفس ہے، حرص ہے، تکبر ہے، ریا ہے، دنیا داری ہے، ہوس مال و دولت و اقتدار ہے۔قرآن کریم کی شریعت نے ان تمام چیزوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے جو نفس واحدہ کو یعنی انسان کے اپنے نفس کو گمراہ کرنے کے لئے ہمیں اپنی زندگی میں نظر آتی ہیں اور جن سے شیطان کام لے کر انسان کو گمراہ کرنے