انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 486 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 486

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۸۶ سورة التحريم تقاضا کرتی ہے کیونکہ محبت کرنے والا دل محبوب کے پیچھے چلتا ہے۔یہ ایک بنیادی صداقت ہے اللہ تعالیٰ کے غضب سے محفوظ رہنے کی یعنی یہ بات کہ انسان کے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ہو اور ایک لگن ہو کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنی ہے۔اس کا انعام اللہ تعالیٰ کا پیار ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کی جنتیں ہیں لیکن ان جنتوں کا حصول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کے نتیجہ میں ملتا ہے ورنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دُوری بھی ہوا اور خدا کی رضا بھی حاصل ہو جائے یہ ایسے ہی ہے جیسے یہ کہنا کہ سورج چھپا بھی ہو اور دن کی طرح یہ دنیا روشن بھی ہو۔اندھیرے اور روشنی تو آپس میں متضاد ہیں یہ اکٹھے نہیں ہوا کرتے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو جانا اندھیرا ہے ایسا اندھیرا کہ ہماری راتوں کے اندھیرے جب بادل بھی چھائے ہوئے ہوں۔وہ بھی اتنے اندھیرے نہیں جتنے روحانی طور پر اور اخلاقی طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو جانے کے اندھیرے ہیں۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو جانے کے نتیجہ میں اس قسم کی کالی گھٹائیں ہوں، رات کے اندھیرے بھی ہوں اور پھر خدا تعالیٰ کے پیار کا نور بھی ہو یہ چیزیں تو اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔پس یہ ایک بنیادی صداقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا پیار حاصل ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار حاصل کرنے کے لئے آپ کی سچی اتباع اور متابعت کی ضرورت ہے۔اتباع رسول کے نتیجہ ہی میں خدا تعالیٰ کا پیار حاصل ہوتا ہے (خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۴۵۳، ۴۵۴) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم اور احادیث سے استدلال کر کے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ داعی الی الشر بھی لگا ہوا ہے اور داعی الی الخیر بھی لگا ہوا ہے یعنی بعض ایسی طاقتیں ہیں جو انسان کو شر کی طرف بلاتی ہیں جو انسان کو شیطان کی طرف کھینچ کر لے جانا چاہتی ہیں اور بعض ایسی قو تیں ہیں کہ جو انسان کو خیر اور بھلائی اور اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف لے جانا چاہتی ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ بیماری بھی ایک چھوٹا سا شر ہے جسے داعی الی الشر پیدا کرتا ہے اور بہت سی نیکیاں ہیں جن سے آدمی محروم ہو جاتا ہے مثلاً نماز با جماعت ہی ہے۔اگر انسان بیمار پڑا ہو تو مسجد میں آنا اس کے لئے فرض نہیں۔شر کے معنی ہمیں قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتے ہیں کہ شیطان کی پیروی