انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 28
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۸ سورة لقمن کے لئے آئے تو انہوں نے ایک کتاب کا ذکر کیا جو حال ہی میں چھپی ہے اور جس میں بتایا گیا ہے کہ بچے کی نوے فیصد سے زیادہ ذہنی طاقتیں دو سال کے اندر بتدریج ترقی کر رہی ہوتی ہیں گویا نوے فیصد سے زیادہ ذہنی طاقت پہلے دو سال کے اندر نشو و نما پاتی ہے اور یہی وہ زمانہ ہے جسے قرآن کریم نے رضاعت کا زمانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ماں بچے کو دو سال تک دودھ پلائے۔دودھ ویسے بھی بڑی اچھی غذا ہے لیکن ماں کا دودھ بچے کی نشو نما کے لئے بہترین غذا ہے مگر ایک وقت میں ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طرح ماں بھی بیمار ہو جائے گی اور بچے کو بھی فائدہ نہ ہوگا۔جب دیکھا کہ اس طرح عورتوں کی صحت تباہ ہو رہی ہے تو پھر کہہ دیا کہ اس میں فائدہ ہے اور پھر اب حال ہی میں یہ کہہ دیا کہ بچے کے نوے فیصد سے زیادہ ذہنی قومی دو سال کے اندر نشو و نما پاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ دو سال تک اس کو بہترین غذا ملنی چاہیے تا کہ اس کے دماغ کی بہترین نشو ونما ہو اور بہترین غذاماں کا دودھ ہے۔پس قرآن کریم کی تعلیم پر لوگوں نے اعتراض شروع کر دیئے پھر وہ اعتراض واپس لے لئے۔پھر خود ہی ریسرچ کی اور قرآن کریم نے جو پر حکمت تعلیم دی تھی اسکی تائید میں باتیں کرنی شروع کردیں۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں قرآن کریم نے ہمیں صرف یہ نہیں کہا کہ اس کائنات کی ہر چیز انسان کی خدمت پر لگا دی گئی ہے یعنی ہر چیز انسان کے فائدہ کیلئے پیدا کی گئی ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ہر مخلوق میں انسان کیلئے بے شمار فائدے رکھے گئے ہیں (بے شمار کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کا شمار نہیں کر سکتے ور نہ ہر مخلوق محدود ہے ) اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اسلامی تعلیم بہت عظیم ہے اس پر کوئی جتنا زیادہ غور کرتا ہے اس پر اس کی عظمت اور زیادہ کھلتی چلی جاتی ہے۔دوسرے ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اس عالمین کی ہر چیز کے اندر جو فائدے ہیں اُن میں وسعت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے مثلاً گندم کا دانہ اپنے اندر جو خواص آج رکھتا ہے وہ پانچ ہزار سال پہلے نہیں رکھتا تھا۔گو اس کے حق میں بہت سے دلائل دیئے جاسکتے ہیں لیکن ایک موٹی دلیل دینا بہتر ہوگا اور وہ یہ ہے کہ سائنسدان کہتے ہیں کہ ستاروں کی روشنی کی جو شعاعیں زمین تک پہنچتی ہیں وہ ہماری فصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور یہ علم اب عام ہو گیا ہے میرے خیال میں بچے بھی اسے جانتے ہیں۔پھر سائنسدان