انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 29 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 29

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۹ سورة لقمن یہ بھی کہتے ہیں کہ نئے سے نئے ستاروں کی شعاعوں کا اضافہ ہورہا ہے۔بعض ایسے ستارے ہیں جو اتنے فاصلہ پر ہیں کہ ہزاروں سال پہلے پیدا ہونے کے باوجود آج پہلی بار ان کی روشنی زمین تک پہنچی ہے۔سینکڑوں ہزاروں ستارے ایسے ہیں جن کی شعاعیں پچھلے پانچ دس سال میں زمین تک پہنچی ہیں۔ہم اُن کا حساب نہیں رکھ سکتے۔اگر ستاروں کی شعاعوں کا اثر ہماری فصلوں پر پڑتا ہے اگر ستاروں کی شعاعوں میں زیادتی ہو رہی ہے تو ظاہر ہے خواص اشیاء میں بھی زیادتی ہو رہی ہے۔چنانچہ فصلوں کو لے لیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ آج کی گندم پانچ ہزار سال پہلے کی گندم سے مختلف ہے یہی حال دوسری فصلوں کا ہے۔اس دنیا کی ہر مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی صفات کے نئے سے نئے جلوے ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔انسان کے جسم پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے فرمایا ہے کہ انسان اپنی نالائقیوں اور بے احتیاطیوں کی وجہ سے اپنے جسم کو ایسا بنالیتا ہے کہ جسم کے اجزا دوائی کے اثرات کو قبول کرنے کے قابل نہیں رہتے۔آپ نے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں دوائی کا اثر معجزانہ طور پر کیسے ظاہر ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں ڈاکٹر کہہ رہا ہے کہ میں ۲۰ دن سے دوائیاں دے رہا ہوں اور کوئی اثر نہیں ہورہا کیونکہ دوا کے اثر کو قبول کرنے کے لئے جسم تیار نہیں ہوتا اور اس طرح گو یا دلوں میں بڑی مایوسی پیدا ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جب ڈاکٹر کے دل میں بھی مایوسی پیدا ہو چکی ہوتی ہے تو مریض کے جسم کے اجزاء پر اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوتا ہے کہ دوائی کے اثر کو قبول کریں تو مریض کو صحت مل جاتی ہے کیونکہ دوا بھی تو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور انسان کے فائدہ کیلئے پیدا کی ہے اس لئے جب جسم کے اجزاء دوائی کے اثر کو قبول کرنا شروع کر دیتے ہیں تو مریض اور اس کے رشتہ داروں اور ڈاکٹروں کے دل میں جو مایوسی پیدا ہوئی ہوتی ہے وہ دور ہو جاتی ہے اور بیما را چھا ہو جاتا ہے۔پس اسلام نے ہمیں ایک تو یہ تعلیم دی کہ اس یو نیورس کی ہر چیز انسان کی خدمت پر لگی ہوئی ہے۔اس عالمین کی ہر چیز انسان کے فائدہ کیلئے پیدا کی گئی ہے اور دوسرے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے اندر جو خواص ہیں وہ تمہارے شمار میں نہیں آسکتے۔تم کسی جگہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے جو کچھ حاصل کرنا تھا وہ کر لیا اور اب کچھ باقی نہیں رہا مثلاً یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ گندم کے خواص سے یا آدم کے خواص سے یا گوشت کے خواص سے سب کچھ حاصل کر لیا ہے اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹ