انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 27
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۷ سورة لقمن جلوے چیونٹی کے پاؤں کی خلق کے ذریعہ ظاہر ہوئے ہیں وہ گنے جاسکتے ہیں یا ہم نے گن لئے ہیں اور اب اور کوئی خاصیت باقی نہیں رہی۔میں تو کسی خاص فن کا ماہر نہیں ہوں اور نہ سپیشلسٹ ہوں کسی مضمون کا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے علم حاصل کرنے کا شوق عطا فرمایا ہے اور آنکھیں کھلی رکھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔آنکھوں سے مشاہدہ بھی کیا ہے اور لوگوں کے مشاہدات کو بھی پڑھا ہے۔چنانچہ دیکھنے میں یہ آیا کہ ایک وقت میں تجزیہ کرنے والوں نے کہا کہ افیون میں ۱۸ است ہیں اور بس۔اور پھر اور آگے آئے اور کہا ہم نے کچھ اور ست نکال لئے ہیں۔میرا خیال ہے اب تک ۳۵۔۴۰ یا شاید اس سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو اس وقت میں نے ایک مضمون میں پڑھا تھا کہ افیون کے ۱۸ یا ۰ ۲ ست معلوم ہوئے ہیں مگر پھر اورست نکلتے چلے گئے۔اسی طرح عورتوں کا اپنے بچوں کو دودھ پلانے کا مسئلہ ہے۔انسان نے ایک وقت میں یہ کہہ دیا کہ اس کے بڑے فائدے ہیں دوسرے وقت میں کہہ دیا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔جب کہا ماں کا دودھ پلانے کے فائدے ہیں یا جس نے کہا فائدے ہیں تو اس نے گویا قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہا کیونکہ دودھ بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور ہر چیز میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے فائدہ رکھا ہے اسلئے ظاہر ہے کہ ماں کی چھاتیوں کے دودھ میں بچے کے لئے فائدہ ہے۔مگر جب اس دودھ کو بے فائدہ قرار دے کر عورتوں کی ایک یا دو نسلوں کی صحتیں اپنی تھیوریز اور اصول بیان کر کے اور اُن پر عمل کروا کر خراب کر دیں تو پھر انسان نے بڑے آرام سے یہ کہہ دیا کہ اوہ ہو! ہم سے غلطی ہوگئی تھی۔اب تو ہماری نئی ریسرچ یہ ہے کہ اگر ماں بچے کو دودھ نہ پلائے گی تو نہ بچہ صحتمند ہوگا اور نہ زچگی کے بعد ماں کی صحت عود کرے گی۔اور یہ سب کچھ اس انداز میں کہا کہ گویا انسان نے ہلاکت کا کوئی کام ہی نہ کیا تھا۔میں پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ قرآن کریم نے جو فیملی پلانگ ( خاندانی منصوبہ بندی) کی ہے اس کی اپروچ (Approach) اور طریق تعلیم آجکل کے سائنسدانوں، ڈاکٹروں اور سیاستدانوں سے بالکل مختلف ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جو شخص اپنے بچے کی رضاعت کو مکمل کروانا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ دو سال تک بچے کو ماں کا دودھ پلائے اور دودھ پلانے کے زمانہ میں عورت کو حمل نہیں ہونا چاہیے۔اس طرح دو بچوں کے درمیان قریباً س سال کا وقفہ پڑ جاتا ہے۔اب کل ہی ایک دوست ملنے