انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 26
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۶ سورة لقمن فیصلے کے اجراء میں ہمیں شامل کرنے کے لئے اور ان بشارتوں کا حامل بننے کے لئے اس نے بہت سی ذمہ داریاں عائد کی ہیں اور ایک مومن ان ذمہ داریوں کی ادائیگی سے گھبراتا نہیں۔وہ سختیوں کو برادشت کرتا اور مصائب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا اور آگے سے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے قادر و توانا رب پر محکم یقین رکھتا ہے اور ان مصیبتوں کو کچھ چیز نہیں سمجھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ وقتی اور عارضی اور زائل ہونے والی چیزیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمتوں کا جو وعدہ دیا گیا ہے وہ لازوال نعمتیں ہیں وہ عارضی نعمتیں نہیں ہیں۔وہ پائیدار رضا اور خوشنودی الہی ہے۔وَاصْبِرُ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۵۰۸،۵۰۷) آیت ۲۱ اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ وَاسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَبٍ مُّنِيرٍ اسلام نے پہلی بات ہمیں یہ بتائی ہے کہ اس یو نیورس (Universe) اس ع ں عالمین کی ہر چیز بلا استثنی انسان کی خدمت کیلئے اور اُسے فائدہ پہنچانے کیلئے پیدا کی گئی ہے۔آج سے چودہ سو سال پہلے جب کہ چاند سے فائدہ حاصل کرنے کا تخیل بھی انسان کے ذہن میں نہیں آیا تھا، قرآن کریم نے یہ اعلان کیا الَم تَرَوْا اَنَّ اللهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ اور ایک دوسری جگہ فرمایا وَ سَخَر لَكُمْ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے۔اس کا ئنات کی ہر چیز تمہارے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہے اور اُسے تمہاری خدمت پر لگا دیا گیا ہے۔اس سلسلہ میں اسلام نے ہمیں ایک بہت ہی عظیم اور بڑی ہی حسین بات یہ بتائی ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز کے فوائد غیر محدود ہیں۔میں نے یہ کہیں نہیں پڑھا کہ کسی شخص نے اس مسئلہ پر اس رنگ میں روشنی ڈالی ہو۔اسلام کے مقابلہ پر کوئی انسان کسی مقام پر کسی زمانہ میں کھڑے ہو کر یہ دعویٰ نہیں کر سکتا۔اگر کوئی بیوقوف یہ دعوی کرے تو ہم اس کو جھٹلانے کے لئے کافی ہیں۔مثلاً کوئی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ چیونٹی کے پاؤں کی جو خاصیتیں ہیں یا اللہ تعالیٰ کی صفات کے جو