انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 344
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۴۴ سورة ق اگر اس کا دل تنہائی کی گھڑیوں میں بھی اور میل ملاپ کے اوقات میں بھی اللہ تعالیٰ کی خشیت کے نتیجہ میں بنی نوع کی ہمدردی میں گداز نہیں تو پھر ایسا شخص جو اس قسم کا دل رکھتا ہو حفیظ نہیں یعنی شریعت کی حفاظت کرنے والا نہیں حالانکہ ہر مربی کا یہ دعویٰ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ( نہ اپنی کسی خوبی کے نتیجہ میں ) حفیظ ہوں۔میرے سپر د شریعت کی حفاظت ہے اور میں نے اپنی زندگی اس کام کے لئے وقف کر دی ہے لیکن اگر اس کا عمل ایسا نہیں اگر اس کے اندر ریا پائی جاتی ہے اگر اس کے اندر کبر پایا جاتا ہے اگر اس کے اندر خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی نہیں۔ان کے ساتھ پیار نہیں، تعلق نہیں، اگر ان کی جسمانی اور روحانی تکلیف دیکھ کر اس کا دل تڑپ نہیں اُٹھتا ، اگر ایسے وقتوں میں اس کا دل گداز ہو کر اور خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اپنے لئے اور ان کے لئے عاجزانہ طور پر بخشش اور بھلائی اور خیر کا طالب نہیں تو کیا ایسا دل حفیظ ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ایسا دل تو حفیظ نہیں۔( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۷۰ تا ۴۷۲)