انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 343
تفسیر حضرت علیلة اسبح الثالث ۳۴۳ میرا فرض ہے کہ میں اس بات کی حفاظت کروں کہ شریعت کا یہ حکم تو ڑا نہیں جاتا۔سورة ق (خطبات ناصر جلد دہم صفحہ (۱۹) پس ایک مربی کو دوسروں کی نسبت زیادہ گداز دل ہونا چاہیے اسی لئے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم دعوی کرتے ہو کہ ہماری اس شریعت کی حفاظت کا کام تمہارے سپرد کیا گیا ہے اگر تمہارا یہ دعویٰ ہے تو اس دعویٰ کا جو تقاضا ہے اسے پورا کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِ أَوَّابٍ حَفِيظ۔مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبِ یعنی میرا یہ وعدہ ہے کہ اس دنیا میں بھی جنت بعض لوگوں کے اس قدر قریب کر دی جائے گی کہ وہ اس دنیا کی حسوں کے ساتھ اسے محسوس کرنے لگیں گے اور میرا یہ وعدہ ان لوگوں کے لئے ہے جو میرے حضور جھکتے ہیں۔اوّاب ہیں اور (حفیظ ) وہ صرف منہ کے دعویٰ سے شریعت کی حفاظت کرنے والے نہیں بلکہ وہ صحیح طور پر اور حقیقی معنی میں شریعت کی حفاظت کرتے ہیں جہاں تک ان کی زندگی کا تعلق ہے وہ شریعت پر عمل کر کے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے وہ معروف کا حکم دے کر اور منکر سے روکنے کے ساتھ شریعت کی حفاظت کرتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شریعت کی حفاظت وہی شخص کر سکتا ہے (مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَ جَاءَ بِقَلْبِ منیب ) جسے رحمان خدا اس کی کسی خوبی یا عمل کے نتیجہ میں نہیں بلکہ محض بخشش اور عطا کے طور پر ایک گداز اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کی عظمت کو پہچاننے والا دل عطا کرتا ہے اور خشیت کا یہ دعویٰ محض ایسا دعویٰ نہیں جو صرف لوگوں کے سامنے کیا جائے بلکہ مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ اس کی تنہائی کی گھڑیاں اور اس کا باطن اس کے ظاہر کو اور اس کے ان لمحات کو جو وہ اجتماعی طور پر گزارتا ہے جھلاتا نہیں۔مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ جس طرح اجتماع میں ، لوگوں سے میل ملاقات اور معاشرہ کی ضروریات پورا کرتے وقت وہ اپنے دل کی خشیت کو اپنے عمل سے ظاہر کرتا ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ تنہائی کی گھڑیوں میں اپنے رب کے حضور اس کی عظمت کا اقبال کرتے ہوئے اور اس کے جلال کا احساس رکھتے ہوئے وہ اس کی خشیت اپنے دل میں رکھتا اور اس کے مطابق اپنے رب کے حضور اوّاب بنتا ہے۔یہ وہ قلب ہے جسے قلب منیب کہا جاسکتا ہے اور یہ وہ قلب سلیم اور قلب منیب ہے جو ایک مربی کے دل میں دھڑکنا چاہیے۔اگر ایک مربی کے دل میں ایک قلب منیب نہیں دھڑکتا اگر اس کا دل تنہائی کے لمحات میں بھی خشیت اللہ سے بھرا ہوا اور لبریز نہیں