انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 345
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ ۳۴۵ سورة الذاريات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النَّاريت آیت ۲۰ وَفي اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ۔پھر ایک اور آیت میں ہمیں سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھانے کے لئے ایک ایسے بندے کی حالت بیان کرتا ہے جو غلام ہو۔قرآن کریم کی اس آیت کے بہت سے بطون ہیں آپ جانتے ہیں بہت دفعہ ہم ذکر کرتے ہیں پہلے بھی کر چکے۔یہاں میں یہ معنی کروں گا کہ ایسے بندہ کی حالت بیان کرتا ہے جو دنیا کا غلام ہو اور جو کسی بات کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو۔جو دنیا کا غلام ہے وہ کس بات کی طاقت رکھتا ہے۔وہ تو خدا سے لڑنے والا ہے نا۔جو خدا تعالیٰ سے لڑنے والا ہے وہ گھمنڈ میں ، وہ تکبر میں، وہ استکبار میں ، وہ غرور میں ، وہ لوگوں کو حقیر سمجھنے کی مرض میں بھی تو مبتلا ہو جائے گا لیکن حقیقی طاقت جس کا صحیح نتیجہ نکلے اور جو خدا کا پیار حاصل کرنے والی ہو وہ طاقت تو اسے نصیب نہیں ہوتی۔تو وہ دنیا کا غلام جود نیا دارانہ زندگی گزارتا اور دنیا کی دلدلوں میں پھنسا ہوا ہے اور کسی بات کی بھی طاقت نہیں رکھتا ایک وہ ہے اور ایک وہ ہے اس کے مقابلے میں جو دنیا کا غلام نہیں بلکہ خدا کا بندہ ہے وہ وَمَنْ زَزَقْنَهُ مِنَا رِزْقًا حَسَنًا جس کو ہم نے رزق دیا اور اس نے یہ جانا اور پہچانا کہ ہم نے اس کو ایک اچھا رزق دیا تھا، ایک ایسا رزق دیا تھا جو خدا تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو جذب کرنے کا ذریعہ بن سکتا تھا اور اس کے نتیجہ میں اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد ہمارے اس بندہ نے يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَ جَھرا ہمارے دیئے ہوئے مال میں لوگوں کے اس حق کو تسلیم کیا جو ہم نے ان کا قائم کیا اور ان کے اوپر وہ خرچ کرتا ہے پوشیدہ طور پر بھی اور اعلانیہ طور پر بھی۔اس آیت کے پڑھتے وقت میرا اس طرف بھی خیال گیا ویسے وہ آیت میں آگے لوں گا بھی، ایک جگہ آیا ہے آگے ذکر آئے