انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 310
تفسیر حضرت علیہ السیح الثالث ۳۱۰ سورة محمد آیات میں تو یہاں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ جن لوگوں کے دلوں میں تربیت کی کمی کی وجہ سے اور ایمان کی کمزوری کے نتیجہ میں بخل پایا جاتا ہے وہ بخل ان کا دور ہو جائے گا اور اخلاص میں وہ ترقی کریں گے اور ایثار میں وہ اور بھی آگے بڑھ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے پیارے بندے بن جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے وہ لوگو! جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرنے والے ہو یا اس زمانہ میں رہنے والے ہو یعنی پہلی تین صدیاں جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت سے یہ بیان کیا ہے کہ اس زمانہ میں میرے متبعین میں بڑے مخلص لوگ پیدا ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضا کی راہیں ان پر کھولی جائیں گی اور اسلام کی روشنی کو وہ دنیا کے کناروں تک پہنچا دیں گے تو یہاں ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تربیت کا سامان پیدا کر دیا ہے، تمہارے دل کے اندر جو اضغان ہیں اور مختلف قسم کی بیماریاں پائی جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ تمہیں صحت عطا کرے گا اور تمہارے دل کی ان بیماریوں کو وہ دور کر دے گا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَانْتُمْ هُؤُلَاءِ تُدْعَونَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ سنو اور ہوشیار رہو تم وہ لوگ ہو جن کو اس بات کی طرف بلایا جاتا ہے کہ تم ان راہوں میں خرچ کرو جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جاتی ہیں۔تم فی سبیل اللہ خرچ کرو، تم کو اس بات کی طرف بلایا جاتا ہے کہ تم فانی چیزوں کو دے کر ابدی سرور کے وارث بنو تم کو اس لئے بلایا جاتا ہے کہ تم اپنے اموال کا ایک حصہ کاٹ کر اشاعت قرآن کے لئے ، اشاعت اسلام کے لئے ، استحکام اسلام کے لئے اور تعلیم اسلام کو فروغ دینے کے لئے الہی سلسلہ کے خزانہ میں آکر جمع کر دو مگر فینكُم منْ يُبْخَلُ تم میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں لیکن جب دنیا کے کھیل کود کا معاملہ ہو اور ایسے اخراجات ہوں جن کے نتیجہ میں انسان لازماً خدا تعالیٰ سے غافل ہو جاتا ہے تو اس وقت بخل کا نام ونشان باقی نہیں رہتا بڑی دلیری سے خرچ کرتے ہیں۔دنیا کی رسوم ہیں، رواج ہیں، بیاہ شادی کے اوپر وہ لغویات کی جاتی ہیں اور ان لغویات پر وہ خرچ کیا جاتا ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ ان آدمیوں کی عقلوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی بساط اور استطاعت سے آگے نکلتے ہوئے یہ خرچ کر رہے ہیں۔اپنے لئے بھی دنیا میں ایک مصیبت پیدا کر رہے ہیں لیکن جب یہ کہا جاتا ہے کہ آؤ غلبہ اسلام