انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 309 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 309

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۰۹ سورة محمد سے ہمیں دیا ہوتا ہے اور وہی اپنے فضل سے ہمیں دنیا کے اموال کا مالک اور وارث بنا تا ہے اور پھر ہمیں کہتا ہے کہ جو میں نے تمہیں دیا ہے اس میں سے تھوڑ اسا مجھے واپس دے دو کیونکہ جو میں نے اس دنیا میں تمہیں دیا تھا وہ فانی ہے اور ضائع ہونے والا ہے اس کے ایک حصہ کا میں مطالبہ کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ مجھے لوٹا دو تا وہ ذریعہ بن جائے ان ابدی اور غیر فانی نعمتوں کا جو تمہیں اُخروی زندگی میں ملنے والی ہیں۔إِنْ يَسْتَلْكُمُوهَا فَيُحْفِكُمْ تَبخَلُواوہ ایک گدا گر اور بھیک منگے کی حیثیت سے تمہارا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا ، وہ اس فقیر کی طرح مانگنے والا نہیں جس کے متعلق تم حق رکھتے ہو کہ اسے کہو بابا جاؤ ہم تمہارے کشکول میں بھیک نہیں ڈالتے بلکہ وہ تو آقا ہوتے ہوئے بھی ، وہ تو غنی ہوتے ہوئے بھی اپنی رحمت کے جوش میں تمہارے ہی فائدہ کے لئے تمہارے دروازہ پر آتا ہے اور ایک سچا اور سستا سود اتم سے کرنا چاہتا ہے۔وہ تو یہ کہہ رہا ہے کہ فانی دو اور باقی پاؤ۔ورلی زندگی کے کھوٹے سکے اور مصنوعی پتھر دے دو اور کھرے سکے اور اصلی لعل و جواہر لے لو وہ تو کہتا ہے بخل چھوڑ و، ہاں بخل چھوڑو کہ وہ تمہارے لئے نقصان دہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيُخْرِجُ أَضْغَانَكُمُ اس کے مختلف معانی تفاسیر میں کئے گئے ہیں۔ایک معنی تو اس کے یہ ہیں کہ یہاں یہ فرمایا کہ اگر بخل کا طریق تم اس الہی سلسلہ میں اختیار کرو گے تو اس سے تمہارے کچھ اور گند بھی ظاہر ہوں گے کیونکہ تمہارا بخل سے کام لینا بتا رہا ہوگا کہ تمہارے دل میں مخلصین کے لئے کینہ موجود ہے اور تم خدا اور اس کے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کے ساتھ دشمنی کے جذبات رکھتے ہو تم مال اس لئے نہیں دیتے کہ تمہارے بعض بھائیوں کی ضرورتیں پوری ہوں گی یا اللہ تعالیٰ کے دین کی یہ ضرورت پوری ہوگی کہ تمہارے وہ بھائی جوا اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر رہے ہیں وہ جہاد کے میدان میں نکلیں گے اور ان مالوں کو وہ خرچ کریں گے یہ محض بخل ہی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے کینہ، اس کے پیچھے خدا اور اس کے رسول اور مخلصین سلسلہ کے ساتھ مخلصین اُمت مسلمہ کے ساتھ تمہاری دشمنی ہے تو یہ بخل جو ہے یہ ظاہر کرے گا تمہارے اس کینے کو اور تمہاری جو قلبی بیماریاں ہیں ان کے ظاہر کرنے کا یہ ذریعہ بن جائے گا۔دوسرے اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ دراصل اللہ تعالیٰ تین زمانہ کے لوگوں کو مخاطب کر رہا ہے ان