انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 311 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 311

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۱۱ سورة محمد کے لئے مالی قربانیاں دیں تو کہتے ہیں کہ بڑی مجبوری ہے، بڑی ذمہ داریاں ہیں، بچوں کو پڑھا رہے ہیں، رشتہ داروں کو پال رہے ہیں اس میں ہمیں رعایت ملنی چاہیے لیکن بچوں کی پڑھائی اور رشتہ داروں کا خیال بد رسوم کی ادائیگی کے وقت ان کے دماغوں میں نہیں آتا تو جب دنیا کے لئے وہ خرچ کرتے ہیں، دنیا کے کھیل کود اور دنیا کے لھو کے لئے تو بے دریغ خرچ کر جاتے ہیں اور اموال کو ضائع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَمَنْ يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهِ تم آزاد ہو تم پر کوئی جبر مذہب نے عائد نہیں کیا اس لئے جو چاہو کرو لیکن یہ یاد رکھو کہ وَمَنْ يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نفیسہ کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص بھی انفاق فی سبیل اللہ میں بخل سے کام لیتا ہے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ انفاق کا فائدہ اسے ہی ملنا تھا۔اس کا ثواب اگر زید خرچ کرنے والا ہے تو بکر کو نہیں ملتا اگر زید بخل کرتا ہے تو اس کے نتیجہ میں جومحرومیاں اس کو حاصل ہوتی ہیں وہ محرومیاں بکر کو حاصل نہیں ہوتیں تو اس بخل کا نتیجہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو ثواب سے محروم کرتا ہے۔اپنے نفس کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے کسی اور کو نہ فائدہ تھا انفاق سے، نہ ہی اس بخل کے نتیجہ میں کسی کو نقصان پہنچے گا خود اپنے نفس کو ہی ایسا شخص نقصان پہنچانے والا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ اللہ غنی ہے اور تم فقراء ہو خدا تعالیٰ کو توکسی مال کی ضرورت نہیں وہ ہمیشہ سے غنی ہے وہ اس دن سے غنی ہے جب اس نے تم کو سورج کی روشنی سے فائدہ پہنچانے کے لئے اس کو پیدا کیا سورج کی پیدائش سے اس کو کوئی ذاتی نفع نہیں تھا یا اگر وہ اسے پیدا نہ کرتا تو اسے کوئی ذاتی نقصان نہیں تھا۔وہ ہمیشہ سے غنی ہے لیکن ہمیشہ سے وہ بھی بھی ہے وہ بڑا د یا لوبھی ہے وہ بڑا رحم کرنے والا بھی ہے وہ بڑا خیال رکھنے والا بھی ہے۔وہ بڑا پیار کرنے والا بھی ہے جو مخلوق لاکھ سال کے بعد یا دس لاکھ سال کے بعد یا کروڑ سال کے بعد پیدا ہونی تھی اس کا اس نے کروڑ سال پہلے یا دس لاکھ سال پہلے یالا کھ سال پہلے سے خیال رکھا باوجود غنی ہونے کے تو جہاں اس کی صفت غنا ازلی ہے وہاں اس کی رحمت بھی ہر وقت جوش میں رہتی ہے تو تمہیں کس نے کہا کہ وہ فقیر بن کر تمہارے دروازہ پر آیا اور اس نے تمہارا دروازہ کھٹکھٹایا فقیر تو تم ہو تم اپنی پیدائش سے پہلے بھی فقیر تھے کہ اگر تمہاری ضرورت کو اس وقت پورا نہ کیا جاتا اور آج سورج کی روشنی تمہارے اوپر نہ چمکتی تو تم بہت ساری چیزوں سے محروم رہ جاتے مثلاً آنکھ کی بینائی سے تم