انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 22 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 22

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۲ سورة لقمن واحد و یگانہ سب قدرتوں اور سب طاقتوں کا مالک ہے۔اسی کے جلوے ہمیں مادی شکل میں نظر آتے ہیں سورج کی روشنی اسی کے نور کی ایک جھلک ہے چاند کی چاندنی اس کے حسن کا جلوہ دکھا رہی ہے پانی میں زندگی اسی کی صفت حی کا ایک جلوہ ہے اور پھر انسان کا باقی رہنا اور صحت کے ساتھ باقی رہنا اس کی قیومیت کا مظاہرہ ہے غرض ہر چیز خواہ کسی شکل میں اور کسی رنگ میں ہمارے سامنے آئے وہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہی ہے جو اس رنگ میں اور اس شکل میں ہمارے سامنے آئی۔اللہ تعالیٰ کی اس معرفت اور اس عرفان کے بعد محبت کا ایک بیچ بچہ کے دل میں بویا جاتا ہے پھر وہ اپنی استعداد کے مطابق اس پیج کو بڑھانے میں خدا تعالیٰ کی توفیق سے کامیاب ہوتا اور خدا تعالیٰ کے حسن اور اس کے احسان کے جلوؤں کا مشاہدہ کرتا ہے بہر حال بچے کو بچپن کی عمر میں ہی شرک سے اجتناب کی تعلیم دینی چاہیے اور اس کے دل میں تو حید حقیقی کو قائم اور راسخ کر دینا چاہیے۔یہ استاد کا کام ہے پھر اس کی جو بھی موجودات ہیں (موجود حقیقی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میں ہی نہیں بلکہ میں نے بہت سی ، بے شمار اور ان گنت مخلوق پیدا کی ہے اور اپنی اس مخلوق کو بعض رشتوں میں باندھ دیا ہے، تعلقات میں باندھ دیا ہے ) یہ بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں کی زنجیر ہے اور جس طرح باپ بیٹے سے اس زنجیر کے ساتھ جکڑا ہوا ہے اسی طرح ایک انسان مکھی کے ساتھ بھی جکڑا ہوا ہے وہاں بھی ایک جلوہ ہے جس نے ان کو آپس میں باندھ دیا ہے بار یکی میں میں نہیں جاتا آپ جلدی سے سمجھ جائیں گے مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اپنی مخلوق میں ایک یہ جلوہ بھی دکھایا ہے کہ میں نے اپنی ہر مخلوق کو انسان کا خادم بنادیا ہے اب اسی جلوے کے ساتھ ایک مکھی اور انسان ایک ہی زنجیر میں خادم اور مخدوم کی حیثیت میں بندھ گئے۔ہر چیز انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے اور چونکہ ہر چیز انسان کی خادم ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مخدوم یعنی انسان سے کہا تو اپنے زور سے مخدوم نہیں بنا اس تسخیر کے نتیجہ میں صرف تیرے حقوق ہی قائم نہیں ہوئے بلکہ اس تسخیر کے نتیجہ میں ہم نے تیری ذمہ داریاں بھی قائم کی ہیں اور تیرا فرض ہے کہ تو ہماری عائد کردہ ذمہ داریوں کی روشنی میں ہر چیز کے ساتھ جو اسی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے ویسا سلوک کرے جو ہم کہتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری مخلوق میری صفات کے جلوؤں کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے