انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 21
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۱ سورة لقمن ظلم کے معنے ہیں کسی چیز کو غیر محل میں رکھ دینا یعنی جو چیز خدا کی تھی اسے کسی غیر کو دے دینا۔جو صفت محض اللہ تعالیٰ کی ظلیت میں اور اس کی اتباع میں حاصل کی جاسکتی تھی فی نفسہ اس صفت سے متصف کسی غیر کو سمجھنا یا خود کو سمجھ لینا یہ غلط ہے اور غلط جگہ پر اس صفت کو منسوب کیا گیا ہے اور پھر فرمایا کہ نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی غیر کو شریک نہیں ٹھہرانا بلکہ خدا کو واحد اور یگانہ سمجھنا ( اپنی ذات میں بھی اور اپنی صفات میں بھی) اور تمام صفات حسنہ سے اسے متصف سمجھنا اور یہ یقین رکھنا کہ جو بھی مخلوق ہے وہ در حقیقت اسی کی صفات کے جلوے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا وہ مخصوص جلوہ نہ ہوتا جو ہوا تو ہم جو آج یہاں بیٹھے ہیں پیدا بھی نہ ہوتے۔یہاں جمع ہونے کا تو سوال ہی نہیں ہوتاوہ ایک خاص جلوہ تھا جس نے ہم میں سے ہر ایک کو خلق کیا پھر اس کو طاقتیں دیں پھر اس کی نشوونما کی پھر اس کو یہ توفیق دی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہنچانے پہچان کر جماعت میں داخل ہو یا جماعت میں پیدا ہو کر آپ کو پہچانے اور پھر اس کے دل میں یہ خیال پیدا کیا کہ ایک دین سکھانے کی کلاس ہے وہاں تم جاؤ اور ا کٹھے ہو۔میں نے ایک جلوہ کہا تھا لیکن حقیقتا یہ بہت سے جلوؤں کا مجموعہ ہے بہر حال اللہ تعالیٰ کا جلوہ نہ ہوتا یعنی اس کی صفات میں سے ایک صفت کا یہ جلوہ نہ ہوتا تو ہم یہاں اکٹھے نہ ہوتے۔ہر چیز موجود ہے ہر چیز جو زندہ ہے وہ ترقی کی طرف جارہی ہے یا تنزل کی طرف مائل ہے وہ جوانی کی طرف بڑھ رہی ہے یا موت کی طرف چل رہی ہے وہ ہر حالت میں خدا تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت یا صفات کا جلوہ یا جلوے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان جلووں میں کسی غیر کو شریک نہ کرنا۔اسلام نے بڑی تفصیل سے یہ بات بیان کی ہے یہ نہیں کہ خلق کے لئے تو اللہ کے جلوے کی ضرورت ہے لیکن تن ڈھانکنے اور پیٹ بھرنے کے لئے مارکسن اور سٹالن اور لینن کے جلوؤں کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سے یہ منوانا نہیں چاہتا بلکہ ہر کام کے لئے ہر چیز کے حصول کے لئے ، ہر نیک خواہش کے پورا ہونے کے لئے ، ہر ضرورت کے مل جانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کے جلوے کی ضرورت ہے وہ جلوہ نہ ہو تو ہماری خواہش اور ہماری ضرورت پوری نہیں ہوسکتی۔توحید کے اوپر قائم کرنا چاہیے۔ہر رنگ میں اور ہر طریق پر توحید حقیقی کو بیان کر کے اور انگلی انسل کو اس بات پر پختگی سے قائم کر دینا چاہیے کہ خدا کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں وہ خدا ہی