انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 283
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۸۳ سورة الجاثية وہ تو عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ سے منہ موڑنے والوں اور انبیاء کے مخالفوں پر ہمیشہ آتے رہے ہیں اور قرآن کریم نے اس کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔( خطابات ناصر جلد پنجم صفحه ۴۸۵ تا ۴۸۷) اسلامی تعلیم ساری کی ساری نہایت حسین ہے اور اسلامی تعلیم انسانی زندگی کے ہر شعبہ کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ہماری زندگی کے ہر پہلو میں حسن پیدا کرنے والی ہے۔ایک دو باتیں نہیں جو اسلام نے بتائیں اور ہم ان کا خیال کریں اور سرخرو ہو جائیں اپنے رب کے حضور بلکہ ہماری زندگی کے ہر پہلو کے متعلق ہدایتیں ہیں جو دی گئیں اور زندگی کے ہر پہلو کے متعلق ہمیں ان ہدایتوں کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔کبھی اللہ تعالی تنگی سے بھی اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔جو خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے وہ بھی دکھ اٹھاتے ہیں اور جو خدا تعالیٰ پر ایمان لائے اور اسلام میں داخل ہوئے اگر وہ اسلامی تعلیم پر عمل نہ کریں تو انہیں بھی تکلیف پہنچتی ہے لیکن اس تنگی کے زمانہ میں بھی وہ جماعتیں جو اسلامی تعلیم پر عمل کرنے والی ہیں تکالیف سے اور دکھوں سے محفوظ کی جاتی ہیں۔اور یہ جو میں نے کہا کہ کوئی شخص بھوکا نہ رہے پہلے بھی میں نے کہا تھا کہ عام حالات میں آپ کو ایک دھیلہ خرچ کئے بغیر ایسا انتظام کر ناممکن ہے کہ کوئی شخص بھوکا نہ رہے۔ایک تو میں آج اس ملک کی ہی باتیں بتاؤں گا۔اس سلسلے میں ایک بات یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ اللہ تعالیٰ نے ہر دو جہان کی ہر شے کو انسان کے فائدہ کے لئے اس کی خدمت کے لئے پیدا کیا، اس کا خادم بنا دیا۔اس کے بہت سے بطون ہیں۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مختلف تفسیریں کی ہیں۔اس Context میں اس سلسلے میں جو میں بات کر رہا ہوں اس کے متعلق میں یہ بتاؤں گا کہ آپ نے بنیادی طور پر تو یہ کہا کہ جب ہر چیز خدا نے خادم بنائی تو ہر چیز سے زیادہ سے زیادہ خدمت لینا ہمارا کام ہے۔دوسرے یہ کہ کسی چیز کو جو ہماری خادم ہے اس کو ضائع کر دینا ناشکری اور گناہ ہے اور اس لئے آپ نے فرمایا اپنی رکابی میں اتنا سالن ڈالو جتنا ختم کرلو۔ایک لقمہ کھانے کا ضائع کرنے کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اجازت نہیں دی۔قرآن کریم کے اسی حکم کے ماتحت یا اس اعلان کے مطابق کہ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ اگر ہم اسی کا خیال رکھیں کہ کھانا ہمارا ضائع نہ ہو تو جو لقے بچیں گے وہ ہمارےان بھائیوں کے کام آئیں گے جن کے منہ میں لقمہ جانے کے لئے کوئی لقمہ موجود نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم