انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 284
۲۸۴ سورة الجاثية تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث نے فرمایا کہ ہر چیز تمہارے فائدے کے لئے تو پیدا کی گئی ہے مگر فائدہ حاصل کرنے میں، استعمال میں اسراف نہیں کرنا جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ نہیں کرنا۔جتنا کھانے کی ضرورت ہے اس سے زیادہ کھانا نہیں اور اس لئے فرمایا کہ بھوک ہو تو کھانا شروع کرو اور ابھی بھوک محسوس کر رہے ہو تو کھانا چھوڑ دو۔یہ تو پھر آدمی آدمی پہ ہے۔طبائع مختلف ہیں اس میں شک نہیں۔ہر شخص نے اس چیز کو سامنے رکھ کے فیصلہ کرنا ہے کہ کتنی بھوک ہو تو میں کھانا چھوڑ وں تو میری صحت کے اوپر اور میری جو زندگی ہے کہ میں نے کام کرنا ہے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو نباہنا ہے اپنے خاندان کی بھی ، اپنی قوم کی بھی ، اپنے رشتے داروں کی بھی ، اپنے ساتھ ہم عصر انسانوں کی بھی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، کتنی طاقت مجھ میں ہونی چاہیئے کہ میں ان تمام ذمہ داریوں کو نباہ سکوں؟ وہ طاقت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھوک محسوس کر رہے ہو گے تو کھانا چھوڑ دو گے تب بھی وہ طاقت تمہیں لے گی کیونکہ حمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی ایسا حکم نہیں دے سکتے جو حسنِ اعظم ہیں یعنی ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی ایسا حکم دیں گے جو ہمارے لئے نفع رساں ہونے کی بجائے ہمارے فائدے کے خلاف ہو، مضرت رساں ہو وہ۔اگر ہم کوئی لقمہ کھانے کا ضائع نہ کریں اگر ہم ابھی بھوک ہو تو کھانا چھوڑ دیں تو ہمارے گھروں میں جو کھانا پکتا ہے اسی پر بہت سے آدمیوں کا پیٹ پالا جاسکتا ہے مہمان بلا کر۔حدیث میں آیا ہے، دو مختلف باتیں آگئیں اور ان میں کوئی تضاد نہیں۔ایک جگہ آیا ہے کہ جتنے آدمیوں کا کھانا گھر میں پکے اس سے دگنے پیٹ بھرے جا سکتے ہیں۔ایک اسی حدیث میں یہ فقرہ بھی ہے کہ جتنے کا پکے اس سے ڈیڑھ گنا پیٹ بھرے جاسکتے ہیں یعنی چار کا کھانا پکے چار کھانے والے ہیں میاں بیوی اور دو بچے مثلاً تو آٹھ آدمی کھا ئیں تو ان کا پیٹ بھر جائے گا۔اس معنی میں کہ کھانے کی ضرورت ان کی پوری ہو جائے گی اور کھانے کی کمی کی وجہ سے جو صحت پر برا اثر پڑ سکتا ہے وہ نہیں پڑے گا اور ایک یہ فرمایا کہ اگر چار کھانے والے ہیں تو چھ کا پیٹ بھر جائے گا اور یہ دراصل جو امیر لوگ ہیں ان کے گھروں میں اس قسم کے کھانے پکتے ہیں کہ وہ چار کا پکے تو آٹھ بھی کھالیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور جو غریب ہیں نسبتاً وہ چار کا گھر میں ان کے پکے گا تو چھ کھا لیں گے۔یہ اس چیز کو سامنے رکھ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باریکی میں گئے ہیں اور یہ ہدایت دی ہے ہمیں۔بہر حال ہو سکتا ہے۔