انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 232 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 232

۲۳۲ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث تو بہ واستغفار کرتا ہے تو وہ بار بار توبہ کو قبول کرنے والا ہے لیکن اس قسم کی لغزش یا اس قسم کی پریشانی کا احساس یا اس قسم کی توبہ واستغفار جو اس دنیا کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اخروی جنت میں ان چیزوں کا کوئی تصور نہیں ہے۔دراصل اس دنیا میں متواتر جنت کی بشارت ملتے رہنا اطمینان قلب کے لئے ضروری ہے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی یہ کہنا پڑا تھا کہ اس لئے پوچھ رہا ہوں لِيَطْمين قلبى (البقرة :۲۶۱) تا کہ میرے دل کو اور اطمینان حاصل ہو۔پس جو آدمی اس جنت میں چلا گیا جس میں سے نکلنے کا امکان ہی نہیں اس کا اطمینان اس بات میں تو ہو گیا کہ ایک ایسی جنت مل گئی جس کے اندر کوئی شبہ نہیں۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۳۲۰ تا ۳۲۲) قرآن کریم نے اس اصطلاح کی بجائے ایک اور اصطلاح استعمال کی ہے۔قرآن کریم نے عید دو کی بجاۓ نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ کی آیت کریمہ میں نُول“ کی اصطلاح کو استعمال کیا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ جو غفور ہے غلطیوں کو معاف کر دیتا اور خطاؤں کو نظر انداز کر دیتا ہے اور پھر وہ رحیم ہے وہ انسان کی بار بار کی محنت کو بار بار شرف قبولیت بخشا اور اس کے لئے خوشی کا سامان پیدا کرتا ہے یعنی جو بار بار آنے کا مفہوم عید کے لفظ میں تھا نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ میں نُزُل کے لفظ سے اسی تخیل کو گویا ایک نہایت حسین پیرایہ میں ادا کیا ہے۔دوسرے عید کا لفظ یہ نہیں بتاتا کہ یہ اللہ تعالی کے فضل سے حاصل ہونے والی خوشی ہے۔یہ ایک ایسی خوشی ہے جو بار بار آتی تھی۔ایسی خوشی جو ابو جہل کے گھر میں ہر بچے کی پیدائش پر بار بار آئی اور دوسرے کفار کے ہاں بھی جن کے بہت بچے زیادہ بچے تھے ان کے گھروں میں ہر بچے کی پیدائش پر اُن کے لئے دنیوی خوشی کے سامان پید اہوئے وہ گویا ان کے لئے عید کا دن تھا لیکن وہ اُن کے لئے نُزُلاً مِنْ غَفُورٍ رَّحِیم کا دن نہیں تھا۔پھر ان دونوں قسم کی عیدوں میں ایک یہ فرق بھی ہے کہ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِیمٍ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اِنَّ ހ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا اس کی رُو سے گویا ہماری عید استقامت کا نتیجہ ہے اور اس عید سعید کے مقابلہ میں جو چیز اس کی ضد ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے غضب کے نزول کا دن اس کے لئے بھی گو ب تسلسل کا ہونا ضروری ہے لیکن قرآن کریم کی اصطلاح میں اسے استقامت نہیں کہتے بلکہ اصرار کہتے ہیں جیسے مثلاً سُورۃ نوح میں فرمایا: وَاصَرُّوا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا (نوح : ۸) یعنی ایسے لوگوں نے اپنے گناہوں اور کفر اور انکار اور نبی کو قبول نہ کرنے پر اور اس کی مخالفت کرنے پر بوجہ تکبر اصرار کیا