انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 233
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۲۳۳ سورة حم السجدة یعنی وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے اور گناہ پر تسلسل تھا۔وہ کہتے تھے کہ ہم نے گناہ نہیں چھوڑ نا چنانچہ اس کے نتیجہ میں وہ عذاب یا جہنم کے مستوجب ٹھہرے۔قرآن کریم نے عذاب کا لفظ دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے۔اُس تنبیہ کے معنی میں بھی جو لوگوں کی اصلاح لئے عذاب کی شکل میں نازل ہوتا ہے اور اُس قہر کے معنوں میں بھی جو مرنے کے لئے جہنم کی شکل میں ملتا ہے۔اس کو بھی عذاب جہنم کہتے ہیں۔قرآن کریم نے بھی عذاب کو اس معنی میں استعمال کیا ہے۔پس جہاں گناہوں پر اصرار ہو اللہ اپنا غضب بار بار نازل کرتا ہے۔اس کے لئے جیسا کہ میں نے بتایا ہے اصرار کا لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ نوح میں فرماتا ہے وَ اَصَرُّوا وَ اسْتَكْبَرُوا استكبارا اس کے برعکس اصرار کا لفظ نیکیوں کے تسلسل کے لئے قرآن کریم میں کہیں بھی استعمال نہیں ہوا اور استقامت کا لفظ نیکیوں پر استقلال کے ساتھ قائم رہنے اور بار بار اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت نیکیاں کرتے رہنے کے معنی میں تو استعمال ہوا ہے لیکن گناہوں پر قائم رہنے کے معنی میں استعمال نہیں ہوا استقامت اور استقلال یعنی صبر کے ساتھ اور تحمل کے ساتھ اور دُکھوں کی برداشت کے ساتھ اور ایثار کو پیش کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہر وقت اور ہرلمحہ تیار رہنے کے ساتھ جو زندگی گزاری جاتی ہے اس کے آخر میں جنت ہے جنت دو قسم کی ہے ایک اس دنیا کی جنت ہے اور ایک اُخروی زندگی کی جنت ہے اُخروی جنت میں جولوگ داخل ہو گئے وہ گویا حفاظت میں آگئے شیطان دروازے پر اُن کو بہکانے کے لئے اور امتحانوں میں ڈالنے کے لئے کھڑا نہیں ہوتا لیکن جو اس دنیا کی جنت ہے اگر ہم اس مضمون کا گہرا مطالعہ کریں تو اس جنت کی دو شکلیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ایک کو آپ جنتی زندگی سے ملتی جلتی زندگی کہہ سکتے ہیں ( کیونکہ یہ امتحان اور ابتلا کی زندگی ہے) جس میں داخل ہونے کے بعد نکلنے کا دروازہ کھلا ہے اور ایک حقیقی جنت ہے جس میں داخل ہونے کے بعد اس سے نکلنے کا دروازہ نہیں گھلتا مثلاً حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض صحابہ کے متعلق یہ بشارت دی کہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے یہ لوگ جو مرضی کرتے رہیں یہ میری جنت سے نہیں نکلیں گے، جو مرضی کرتے رہیں کا یہ مطلب نہیں کہ گناہ کرتے رہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب یہ جو کچھ بھی کریں گے وہ نیکی ہی ہوگی اور وہ ان کو جنت سے نکالنے کا باعث نہیں بلکہ جنت کی نعماء کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنے گا۔