انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 231 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 231

۲۳۱ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث میں بھی ان کے چہروں پر بشاشت کھیل رہی ہوتی ہے۔ان کے دلوں میں اطمینان ہوتا ہے اور یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو محسوس کرنے والوں کے لئے عجیب رنگ رکھتی ہے۔یہ بشاشت اور اطمینان حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم احسان کا نتیجہ ہے ورنہ گھر سے تو کچھ نہیں لائے۔اس میں کسی انسان کی اپنی تو کوئی خوبی نہیں۔فرمایا : و ابشروا اور فرشتے ان کو بشارت دیتے ہیں بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ لوگ جنت کے دو معنے کیا کرتے ہیں۔ایک یہ کہ جنت سے مراد صرف وہ جنت ہے جو مرنے کے بعد ملتی ہے اور ایک یہ کہ جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے واضح ہوتا ہے اس دنیا میں بھی انسان کے لئے جنت پیدا کی جاتی ہے۔مگر جہاں تک مرنے کے بعد کی جنت کا تعلق ہے اس کی کیفیت کا تو کسی کو علم نہیں ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ وہ ایک ایسی جنت ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی محسوس کرنے والے نے اُسے محسوس کیا۔میں اس وقت بتانا یہ چاہتا ہوں کہ ایک جنت ہے جو مرنے کے بعد نیکو کار بندوں کو ملتی ہے اور یہ جنت یہاں بھی ہے اور وہاں بھی ہے۔تاہم یہ بات یقینی ہے کہ جنت کی بشارت جنت میں نہیں ملتی۔جنت کی بشارت کا تعلق مستقبل کے ساتھ ہے۔اس لئے ماننا پڑا کہ امت محمدیہ پر فرشتے اس دنیوی زندگی میں نازل ہوں گے چاہے وہ صرف مرنے کے بعد کی جنت کی بشارت دینے کے لئے آئیں تب بھی یہ اعتراض نہیں پڑسکتا کہ جب آپ اس دنیا کی جنت کو بھی جنت کہتے ہیں تو یہ بشارت پھر اس دنیا کی جنت کے اندر مل گئی۔اعتراض اس لئے بھی نہیں ہوسکتا کہ اس دنیا کی جنت اور اخروی دنیا کی جنت میں ایک بنیادی فرق ہے۔اس دنیا کی جنت میں جو گیا وہ باہر نہیں نکل سکتا کیونکہ وہ ابدی جنت ہے لیکن اس دنیا کی جنت کے ساتھ بہت سے ابتلا بھی لگے ہوئے ہیں۔بلعم باعور بننے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔خدا تعالیٰ بعض لوگوں کو آسمان کی طرف اٹھا کر لے جانا چاہتا ہے لیکن وہ زمین کے اوپر گر جاتے ہیں۔اس لئے اس دنیا کی جنت میں ایک یقینی تسلسل نہیں بلکہ ہر آن سہارے کی ضرورت ہے۔اس جنت میں یہ تو بشارت ملے گی کہ کل کو تمہارے لئے ایک اور ترقی ہے لیکن جب جنت کی بشارت مل چکی یعنی جنت میں چلے گئے تو وہاں سے نکلنے کا کوئی خطرہ نہیں مگر اس دنیا کی جنت سے نکلنے کا بھی خطرہ ہے۔اس لئے بار بار بشارتیں ملتی ہیں اور تسلی ملتی ہے۔خدا تعالیٰ بار بار رحم کرنے والا ہے۔وہ تو اب ہے اس دنیا کی لغزشوں پر جب انسان نادم ہوتا ہے اور