انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 230 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 230

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۳۰ سورة حم السجدة تسلی کے نہ پانے کے سیدھے کھڑے ہو جا ئیں اور ہر چہ بادا باد کہہ کر گردن کو آگے رکھ دیں اور قضاء و قدر کے آگے دم نہ ماریں اور ہرگز بے قراری اور جزع فزع نہ دکھلاویں جب تک کہ آزمائش کا حق پورا ہو جائے یہی استقامت ہے جس سے خدا ملتا ہے۔یہی وہ چیز ہے جس کی رسولوں اور نبیوں اور صد یقوں اور شہیدوں کی خاک سے اب تک خوشبو آ رہی ہے“۔(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۲۰) خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۳۱ تا ۳۷) دوسرے آپ کا روحانی لحاظ سے احسان عظیم ہے۔آپ نے امت محمدیہ پر آسمانی رحمتوں اور فضلوں کے دروازے کھولے کہ اس سے قبل کسی نبی نے اپنی امت کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے وہ دروازے نہیں کھولے تھے۔ہمارا یہ اعلان کوئی جذباتی اعلان نہیں بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ ہماری عقل اس کی تائید کرتی ہے۔ہمارے پاس عقلی دلائل موجود ہیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی صداقت میں آسمانی نشانات نازل ہوتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو یہ وعدہ دیا ہے کہ جو شخص تو حید الہی پر پورے طور پر اور حقیقی معنے میں قائم ہو جائے گا اور پھر استقامت سے اس راہ کو اختیار کرے گا اور اس کے پاؤں میں کوئی لغزش نہیں آئے گی۔تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ اس پر فرشتوں کا نزول ہوگا۔یہ ایک عظیم وعدہ ہے۔گویا قرآن عظیم نے قَالُوا رَنَا الله کہنے والوں کو فرشتوں کے نزول کی بشارت دی ہے جو بڑی وسعت کے ساتھ امت محمدیہ میں پوری ہوئی۔کروڑوں لوگ ایسے پیدا ہوئے جن پر فرشتوں کا نزول ہوا۔غرض جس قسم کی عظیم بشارتیں امت محمدیہ کوملی ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اور آپ کی سنت کی اتباع کے نتیجہ میں انسان پر اللہ تعالیٰ کے جو فضل اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں انسان انہیں دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو اس قسم کی بشارتیں ملی ہیں کہ پہلے انبیاء بھی امت محمدیہ کا اس چیز میں مقابلہ۔اس لئے نہیں کر سکتے کہ ان کے پاس قرآن عظیم جیسی کامل اور مکمل شریعت اور ہدایت نہیں تھی۔پھر فرمایا الَّا تَخَافُوا وَ لَا تَحْزَنُوا امت محمدیہ کے دل سے خوف وحزن کو بالکل مٹادیا ہے۔اب جس شخص کے پہلو میں خدا تعالیٰ کا فرشتہ ہو اور وہ اسے سہارا دے رہا ہو اور اسے تسلی دے رہا ہو کہ غم نہ کرو تو اگر چه دنیا دار خدا کے نیک بندوں کو تکالیف پہنچاتے ہیں ، اس سے انکار نہیں لیکن دنیا کی تکالیف