انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 229
۲۲۹ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اپنے اموال کو خرچ کیا ہم دعاؤں میں لگے رہے اور جب رمضان ختم ہوا تو خدا نے ہمیں کہا تم خوش ہو اور خوشی سے اچھلو اور خوشی سے اپنے وجود کو بھر لو کہ تم ایک درجہ میں کامیاب ہو گئے۔تمہارے پہلے گناہ معاف کر دئے گئے ہیں اور نئی زندگی کا ایک زمانہ اور ایک دور تم پر آرہا ہے تم اس سے زیادہ رحمتوں کو حاصل کرنے کی آنے والے سال میں کوشش کرنا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ تمہیں دنیا میں بھی ایک جنت کا وعدہ دیا گیا تھا وہ جنت تمہیں مل رہی ہے تمہیں استقامت، صبر اور ثبات قدم دکھانا پڑے گا تاکہ ساری زندگی یہ جنت تمہارے ساتھ رہے اگر تم کسی وقت خدا کی معرفت کے حصول کے اور شیطانی وسوسوں کے نتیجہ میں خدا کی بجائے شیطان کی طرف مائل ہو جاؤ یا کچھ خدا کو پہچانو اور کچھ شیطان کو پہچا نو تم کچھ اللہ کی قدر کرو اور کچھ اس کی قدر کرو جس کی اللہ کی نگاہ میں کوئی قدر ہی نہیں تو پھر تم سے جنت واپس لے لی جائے گی لیکن بہر حال خدا کہتا ہے کہ میں رمضان کی مخلصانہ دعاؤں کو قبول کرتا ہوں اور تمہارے لئے خوشیوں کے سامان پیدا کرتا ہوں۔یہ عید ہے جس کے منانے کے لئے ہم آج جمع ہوئے ہیں خدا کرے کہ ہماری نہایت ہی حقیر قربانیاں ہماری اس استقامت کی کوشش کے نتیجہ میں قبول ہو جائیں جو ہم نے کی۔استقامت بڑا ہی اہم اور بڑا ہی مشکل کام ہے۔اس کے بغیر گزارہ بھی نہیں لیکن یہ معمولی کام بھی نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بہت جگہ اس کے متعلق بیان فرمایا ہے میں اس کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے ایک مختصر سا اقتباس اپنے بھائیوں کے سامنے اس وقت پیش کر دیتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں۔کمال استقامت یہ ہے کہ چاروں طرف بلاؤں کو محیط دیکھیں کہ خدا کی راہ میں جان اور عزت اور آبرو کو معرض خطر میں پاویں اور کوئی تسلی دینے والی بات موجود نہ ہو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ بھی امتحان کے طور پر تسلی دینے والے کشف یا خواب یا الہام کو بند کرے اور ہولناک خوفوں میں چھوڑ دے اس وقت نامردی نہ دکھلا دیں اور بزدلوں کی طرح پیچھے نہ ہٹیں اور وفاداری کی صفت میں کوئی خلل پیدا نہ کریں۔صدق اور ثبات میں کوئی رخنہ نہ ڈالیں ذلت پر خوش ہو جائیں موت پر راضی ہو جائیں اور ثابت قدمی کے لئے کسی دوست کا انتظار نہ کریں کہ وہ سہارا دے۔نہ اس وقت خدا کی بشارتوں کے طالب ہوں کہ وقت نازک ہے اور باوجود سراسر بیکس اور کمزور ہونے کے اور کسی