انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 183 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 183

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث کی رضا کی جنتوں میں داخل ہو جاؤ گے۔۱۸۳ سورة الزمر (خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۹۴ تا ۹۸) اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا اللہ تعالی سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔یہ بات کہ اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے حقیقتا صرف اس کو کہی جاسکتی ہے جو سارے گناہوں میں ملوث ہو جو شخص صرف ایک گناہ کا احساس رکھتا ہے اس کو آپ جا کر کہیں کہ مایوس نہ ہو اللہ تعالی سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے تو وہ کہے گا مجھ سے یہ بات کرنے کی کیا ضرورت ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بات صحیح ہے یا غلط لیکن اگر کسی کو احساس ہی یہ ہو کہ میں نے صرف ایک غلطی کی ہے تو سارے گناہوں کو معاف کر دینے کا اس کی طبیعت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ یونہی بات گذر جائے گی لیکن وہ شخص جو خود کو ہر قسم کے گند، ناپا کی اور پلیدی میں پاتا ہے اور اس کا احساس بیدار ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف حرکت کرنے کا ایک جذ بہ اس کی طبیعت میں پیدا ہوتا ہے۔وہ اپنے دائیں طرف دیکھتا ہے بائیں طرف دیکھتا ہے سامنے دیکھتا ہے اور پیچھے دیکھتا ہے اور جہاں تک اس کی نگاہ جاتی ہے جہاں تک اس کا شعور پہنچ سکتا ہے وہ اپنے ہادی اور نجات دہندہ کو تلاش کرتا ہے۔وہ حضرت آدم علیہ السلام کو بھی دیکھتا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھتا ہے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھتا ہے۔وہ تمام انبیاء کو دیکھتا ہے اور مایوس ہو کر وہاں بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ کچھ گناہوں سے نجات کے ذرائع تو ان انبیاء کے پاس ہیں مگر کچھ گنہ گار تو نہیں ہوں میں تو گناہ کی تہ تک پہنچ کر اسفل السافلین کے مقام تک پہنچا ہوں۔اس لئے یہ انبیاء مجھے نجات نہیں دے سکتے تب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شیریں آواز اس کے کان تک پہنچتی ہے اور آپ فرماتے ہیں:۔لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا اس کو یہ آواز سننے کا لطف آتا ہے۔آپ کی محبت اور شفقت اور ہمدردی اور غم خواری نے ہر دکھ کو ہر درد کو اور ہر گناہ کو دور کرنے کے سامان لئے ہوئے اور نجات کا یہ ہر طریقہ ہاتھ میں لئے ہوئے ساری مخلوق اور ساری کائنات کو اپنے احاطہ میں لیا خطابات ناصر جلد اول صفحه ۴۰۲،۴۰۱) ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے خلیفہ وقت کو امر بالمعروف کا مرکزی نقطہ بنایا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہر مسلمان دوسرے کو نیکی کی باتیں بتا تا رہے وہ امر بالمعروف کرتا رہے اور نہی عن المنکر کرتا رہے بدیوں سے وہ روکتا رہے۔اب ہر آدمی جب دوسرے بھائی کو امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کرتا ہے تو جس شخص کو سمجھایا جا رہا ہوتا ہے اس کے سمجھانے والے کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوتا کہ، وہ