انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 182 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 182

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۸۲ سورة الزمر کرو گے تو ہماری رحمت کو تم پالو گے اور پچھلے سارے گناہ تمہارے معاف کر دیئے جائیں گے بڑی ہی امید دلائی ہے ان آیات میں اس گنہگار بندے کو ہمارے رب نے اور وہ راہیں سکھائی ہیں کہ جن پر چل کر ہم اس کی رحمت کو حاصل کرتے ہیں اور اس کی مغفرت کو پالیتے ہیں۔یہاں ہر دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو پوری طرح واضح کر دیا ہے کہ جس وقت انسان اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجائے اس وقت تو بہ قبول نہیں ہوتی دوسری آیات قرآنیہ میں بھی اس موضوع کو بڑی وضاحت سے کھول کر بیان کیا گیا ہے یہاں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب عذاب آئے تو خدا کا وہ فعل بتارہا ہوتا ہےکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے تم محروم کر دیئے گئے ہو اور اس کے مقابلہ میں کوئی تمہاری مدد نہیں کر سکتا اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے تو بغتةً ہوتا ہے یہ نہیں کہ وہ وقت کی تعیین کے ساتھ کہے کہ اب تمہاری پانچ سالہ زندگی رہ گئی ہے اور پانچ سال کے بعد تم پر عذاب آئے گا ایسا نہیں کرتا خدا تعالیٰ کی گرفت ہمیشہ اچانک ہوا کرتی ہے اس واسطے ہرلمحہ ڈر کے اور خوف کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضرورت ہے پتہ نہیں کہ کس وقت اس کی قہری تجلی انسان پر وارد ہو اس لئے فرمایا کہ چونکہ عذاب کے وقت تو بہ قبول نہیں ہوتی اس سے پہلے ہو جاتی ہے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں عذاب سے دو مہینے پہلے تو بہ کر لوں گا اور خدا تعالیٰ کے انعاموں کو حاصل کرلوں گا کیونکہ عذاب کا وقت مقرر نہیں۔اس لئے جس وقت بھی انسان کے نفس کی یہ حالت ہو کہ وہ اپنے کئے پر پچھتانے لگے اور اس کی فطرت میں بیداری اور زندگی پیدا ہونے لگے اور شیطان اس کو خدا کی رحمت سے دور کر نے کے لئے اس کے دل میں مایوسی کے خیالات پیدا کرنے لگے اس وقت اللہ کہتا ہے کہ مایوس نہ ہونا چونکہ ابھی میری گرفت سے تم بچے ہوئے ہو میرا عذاب تم پر نازل نہیں ہوا، تم نہیں جانتے کہ کس وقت وہ عذاب نازل ہو اور میری قہری تجلی کا تم پر جلوہ ہو جائے اس لئے اسی وقت جب تمہارے دل میں یہ احساس پیدا ہو کہ ہم نے اپنے نفسوں پر بڑا ظلم کیا ہے کہ نفسانی خواہشات کی پیروی کی اور فطرت صحیحہ کی آواز کو پہچانا نہیں۔اسی وقت وَ انبُوا إِلَى رَبَّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ اور اسی وقت اتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ کرنے لگو اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارا رب جس نے تمہیں پیدا کیا اور بڑی قوتیں اور استعدادیں تمہیں عطا کیں اور روحانی ترقیات وہ تمہیں دینا چاہتا ہے وہ آہستہ آہستہ ترقی دے کر تمہیں تمہارے کمال تک پہنچائے گا اور تم اس