انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 184 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 184

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۸۴ سورة الزمر ضرور اس کی بات مانے گا۔سمجھانے والے کا کام ہے سمجھا دینا اور خاموش ہو جانا اور مخاطب کا کام ہے کہ وہ اپنے حالات کے مطابق ان باتوں پر عمل کرے اس کے سامنے دور ستے ہیں وہ ان دورستوں میں سے ایک رستہ اختیار کرے گا یا تو اُسے وہ بات سمجھ نہیں آئے گی اور وہ سمجھانے والے کو کہے گا میاں تم جاؤ اور اپنا کام کرو مجھے تم کیوں ستا رہے ہو۔اور اگر اُسے بات سمجھ آ جائے کہ ایسا کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے تو وہ بڑے پیار سے جواب دے گا میاں میں آپ کا بہت ممنون ہوں کہ آپ نے میری توجہ اس طرف پھیری ہے لیکن اپنے دل میں وہ یہی سوچے گا کہ اپنے حالات کو میں بہتر جانتا ہوں۔قرآن کریم کا یہ حکم نہیں کہ میں ہر وہ کام کروں جسے کوئی دوسرا شخص نیکی سمجھتا ہے۔قرآن کریم کا تو یہ حکم ہے کہ جو ہدایت تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اس میں سے جسے تم احسن سمجھو اس کی پیروی کرو اتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ تو افراد کے متعلق تو یہ قانون ہے لیکن جہاں تک جماعت کا تعلق ہے صرف خلیفہ وقت کی ذات ہی ہے کہ آپ میں سے ہر ایک نے اس کے ساتھ یہ عہد بیعت کیا ہے کہ جو نیک کام بھی آپ مجھے بتائیں گے میں اس میں آپ کی فرمانبرداری کروں گا۔یعنی امر بالمعروف میں اطاعت کا عہد جماعت کے اندر صرف خلیفہ وقت سے ہے اور جماعتی نظام میں جب تک کسی جماعت میں خلافت قائم رہے یہ فیصلہ کرنا کہ جماعتی کاموں میں کونسی بات اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق احسن ہے اور کونسی نہیں یہ صرف خلیفہ وقت کا کام ہے کسی اور کا ہے ہی نہیں۔اس نے بتانا ہے کہ موجودہ حالات میں مثلاً دوسروں کے ساتھ مذہبی تبادلہ خیال اس رنگ میں کرو۔ہزار طریقے ہیں جن سے ہم مذہبی تبادلہ خیال کرتے ہیں۔کس موقع پر، کس وقت پر، کس مقام پر، کس ملک میں ایک طریقہ احسن ہوتا ہے تو دوسرے موقع پر دوسرے وقت میں، دوسرے مقام پر یا دوسرے ملک میں دوسرا طریقہ احسن ہوتا ہے۔ایک یہ فیصلہ کرنا کہ کونسے مقام یا کون سے ملک میں کون سا طریق احسن ہے خلیفہ وقت کا کام ہے جب خلیفہ وقت حالات دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے اور جماعت سے کہتا ہے۔اتَّبِعُوا اَحْسَنَ مَا انْزِلَ الیکم۔یہ چیز اس وقت کے لحاظ سے اور ان حالات میں احسن ہے تم اس کی اتباع کرو۔آپ کے کانوں تک اس کی آواز نہیں پہنچتی۔خطابات ناصر جلد ۱ صفحه ۱۰۱،۱۰۰) خوف کے علاوہ دوسری چیز جس کا ایک مومن بندے کے اندر پایا جانا ضروری ہے۔مایوسی کا نہ ہونا ہے ایک مومن بندے کو اپنے رب پر کامل یقین ہونا چاہیے اور اس کا دل اس امید سے بھرا رہنا