انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 177
تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث 122 سورة الزمر ضرورت تھی اس نے ہر قسم کی رحمت مہیا کر دی۔ایک شعر ہے کہ رحمت کا نزول اس طرح ہے کہ تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے ہر لحظہ خدا تعالیٰ کے فضل نازل ہو رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام پر ایمان لا کر، قرآن کریم پر ایمان لا کر، اللہ تعالیٰ پر ایمان لاکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اللہ کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اس اللہ پر ایمان لا کر اور الیس اللهُ بِكَافٍ عَبدَہ میں جو سوال کیا گیا تھا اس کا صحیح جواب دے کر ان نعمتوں کو حاصل کیا۔ہر شخص جو اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدہ کے مفہوم کو سمجھتا اور اس کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے وہ بھی اسی طرح شر سے بچایا جاتا ہے اور رحمتوں کے دروازےاس پر کھولے جاتے ہیں۔اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدَہ کا تیسرا مفہوم یعنی یہ جو سوال ہے کہ کیا تمہارے لئے خدا کافی نہیں ہے اس کا جواب ان آیات کے آخر میں بیان ہوا ہے اور وہ یہ ہے قُل حَسبى الله کہہ دے مجھے اللہ کا فی ہے۔حسبی الله کے معنی ہی یہ ہیں کہ مجھے اللہ کافی ہے۔وہاں کہا تھا اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدَہ کہ کیا اللہ کافی نہیں تو یہاں کہا کہ تو کہہ دے کہ حسبى الله الله میرے لئے کافی ہے۔یہ اس کا جواب ہے حسبي الله یعنی اللہ کافی ہے کہنا محض زبان کا کام نہیں بلکہ انسان کے وجود کا کام ہے۔یہ جواب دینا کہ حسبي الله یہ نہیں کہ زبان پر حسبی اللہ ہو اور انسان غیر اللہ کی طرف جھک جائے اور ان سے تو قعات رکھنے لگ جائے اور ان سے امیدیں باندھنے لگ جائے اور ان سے سہارا لینے لگ جائے اور کچھ خدا کو دے اور کچھ غیر اللہ کو دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر کچھ خدا کو دو گے اور کچھ غیر کو دو گے تو خدا کہے گا کہ جو مجھے دیتے ہو وہ بھی تمہارے منہ پر مارا جاتا ہے، لے جاؤ اسے مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کو تو انسان کی احتیاج نہیں آنْتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى الله (فاطر ۱۶) ہم ہیں اللہ تعالیٰ کے محتاج، ہم فقیر ہیں اور محتاج ہیں اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے اور اللہ تعالیٰ ہمیں ہر رحمت سے حصہ عطا کرے۔عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكَّلُونَ یہاں اليس اللهُ بِكَافٍ عبده کا جواب حسبی الله کے بعد پھر اسی معنی میں دیا ہے کہ تو کل کرنے والوں کے لئے ایک ہی دروازہ ہے، ایک ہی وجود ہے، ایک ہی ہستی ہے جس پر وہ تو کل کر سکتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے باقی کسی پر توکل نہیں کر سکتے۔انسان کو زندگی میں بہت سے جھٹکے لگتے ہیں لیکن