انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 176 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 176

تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث سورة الزمر اللہ تعالیٰ ضرر پہنچانے کا ارادہ کرے تو هَلْ هُنَّ كَشِفتُ ضُرة کیا وہ لوگ جو خالق نہیں اور جن کا حکم اس کائنات میں چلتا نہیں ، جو مالک نہیں اور متصرف بالا رادہ نہیں ، جن کے احاطہ اقتدار میں کوئی چیز بھی نہیں تو کیا جب اللہ جو خالق اور مالک ہے اور جس کے احاطہ اقتدار میں ہر چیز ہے اگر کسی کو ضرر پہنچانا چاہے، اگر کسی کو سزا دینا چاہے، اگر کسی کی بداعمالیوں کا نتیجہ اسے چکھانا چاہے، اگر اس پر اپنا غضب بھڑ کا نا چاہے اور اپنے دست انتقام سے گرفت کرنا چاہے تو یہ لوگ جن کو تم پکارتے ہو خدا تعالیٰ کو عاجز کر دیں گے؟ اس کو جو عزیز بھی ہے اور ذی انتقام بھی ہے وہ اس ضرر اور نقصان کو دور نہیں کر سکتے اور اگر مَنْ يَهْدِ اللهُ فَمَا لَهُ مِن قُضِلّ کے مصداق گروہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا ارادہ کرے تو هَلْ هُنَّ مُسِكَ رَحْمَتِهِ کیا تم اس رحمت کو روک سکتے ہو۔خدا تعالیٰ کی رحمت اس کے نیک بندوں پر نازل ہوتی ہے جس طرح کہ اس کا غضب اس کے بندوں کی اصلاح کے لئے آسمان سے اترتا ہے اور ان کے لئے اس زندگی میں بڑی سخت جہنم پیدا کر دیتا ہے۔رحمت کی بے شمار قسمیں ہیں کیونکہ ہماری زندگی کے بھی بے شمار پہلو ہیں۔مثلاً علم اور فراست میں زیادتی ہے، نور کا حاصل ہونا ہے جس کے متعلق وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ نور تمہارے آگے آگے چلے گا اور تمہاری راہنمائی کرے گا۔اموال میں برکت ہے، اولا د میں برکت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میرے مانے والے وہ برکتیں لیں گے جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل کی ہیں۔جن گھروں میں وہ رہ رہے ہوں گے ان کو خدا تعالیٰ برکتوں سے معمور کر دے گا اور جس چیز کو وہ ہاتھ لگا ئیں گے وہ برکتوں والی ہو جائے گی لیکن یہ ماننے والوں کے لئے ہے، ریا اور تکبر جن کے اندر نہ ہو اور الیس الله بکاف عبده پر عمل کرنے والے ہوں۔مولا بس کے بعد تو پھرا پنا نفس بھی باقی نہیں رہتا۔میں نے بتایا ہے کہ پھر کوئی چیز بھی باقی نہیں رہتی۔مِن دُونِ اللہ میں جو چیز بھی شامل ہے الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ اس کی نفی چاہتا ہے۔اکیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَها جو ایک سوال بھی تھا اور ایک حقیقت بھی تھی اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہی دیا جو خدا تعالیٰ کے پاک بندے دیتے ہیں جس کا آگے ابھی ذکر آتا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ ان گنت دفعہ یہ الہام خدا نے میرے لئے پورا کیا اور اس کو نشان بنایا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ضرر پہنچانے والے پیدا ہوئے تو خدا تعالیٰ نے حسب وعدہ آیات قرآنیہ اس ضرر کو دور کر دیا اور جہاں خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی