انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 178 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 178

تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث 12A سورة الزمر ایک مومن کی صدا اور اس کا اعلان یہی ہے کہ حسبى الله میرے لئے اللہ کافی ہے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۹۵ تا ۱۰۱) اليسَ اللهُ بِكَافٍ عبده کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں؟ یہ عام اعلان ہے ایک جس کا تعلق حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس معنی میں ہے کہ عملاً اس حقیقت کو ظاہر کرنے والے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔یہ سینتیسویں آیت کا ایک ٹکڑا ہے۔انتالیسویں آیت میں ہے۔تو کہہ دے مجھے اللہ کافی ہے (یہ جو آیا تھا پہلے )۔قُلْ حَسْبِيَ اللهُ - أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عبد پہلی آیت ( آیت ۳۷ میں تھا ) پھر کہا اعلان کر دو حسبی اللہ میرے لئے اللہ کافی ہے کسی غیر کی مجھے ضرورت نہیں۔عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَجُلُونَ اس لئے جو میری اتباع کرنے والے ہیں انہیں میں یہ کہتا ہوں کہ تم صرف خدا پر توکل کرو۔ہمیں قرآن کریم میں یہ حکم ہوا۔قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) اور اتباع کس چیز میں کرو؟ (صرف میں اصولی طور پر ود ایک بات بتا رہا ہوں اس وقت ) فرمایا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ اعلان کروایا ) ان اتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَی الی (یونس :۱۲) جو وحی مجھ پر نازل ہو رہی ہے میں صرف اس کی اتباع کرتا ہوں اور جس وقت ہمیں کہا گیا کہ آپ کی اتباع کرو تو اس کے یہ معنی ہو گے کہ جس طرح حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم صرف اس وحی کی اتباع کر رہے ہیں جو آپ پر نازل ہو رہی ہے۔اس لئے ہر سچے مومن کا فرض ہے کہ صرف اس وحی کی اتباع کرے جو آپ پر نازل ہورہی ہے۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۶۴) آیت ۵۴ تا ۵۶ قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وانبُوا إِلَى رَبَّكُمْ وَ اَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ وَ اتَّبِعُوا اَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُم مِّنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَ أَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ۔ان آیات میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحمت کے عظیم اور حسین جلوے نظر آتے ہیں