انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 125
۱۲۵ سورة الصفت تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک رویا میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں چنانچہ اس خیال سے کہ اللہ کی راہ میں جان دینے کے بارہ میں گریز نہ سمجھا جائے ، انہوں نے پہلے تو اپنے بیٹے سے یہ پوچھا کہ تیری رائے کیا ہے کیونکہ نیک اعمال دوسروں پر ٹھونسے نہیں جاتے۔جب حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی خدا کی راہ میں جان دینے کے لئے راضی ہو گئے تو انہوں نے اپنے بیٹے کو لٹایا اور اس کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے تب خدا نے فرمایا کہ جس قسم کی قربانیوں کے لئے میں تمہارا امتحان لینا چاہتا تھا ان کے لئے میں نے تمہیں تیار پایا اور مستعد دیکھا۔میں تم سے یہ قربانی نہیں مانگتا کہ تم اپنے بیٹے کی جان دیدو۔جان کی بجائے میں اپنی راہ میں تمہاری زندگی کا ہر سانس مانگتا ہوں۔تم اسمعیل علیہ السلام کو ایک بے آب و گیاہ ریتلے میدان میں چھوڑ آؤ اور پھر دیکھو میری قدرت دنیا کو کیا نظارہ دکھاتی ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کوصرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہوئے ، صرف اس عزم پر قائم رہتے ہوئے کہ جتنی بھی زندگی ہے اس کا ہر سانس خدا تعالیٰ پر قربان ہوگا، وہاں چھوڑ آئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام وہاں رہنے کے لئے تیار ہو گئے۔اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر ڈالتی تو وہ جو زندگی کا ہر سانس عملاً خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار تھا دنیا اس کی اس عظیم قربانی کا نظارہ نہ دیکھتی جس نے بنی نوع انسان کے لئے ایک اسوہ بننا تھا۔اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس وقت ذبح کر دیا جاتا تو یہ مطالبہ جو تھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولا ونسلاً بعد نسل اپنی زندگیاں خدا کی راہ میں قربان کرنے والی ہوں، اس کا موقع ہی نہ ملتا۔نہ نسل پیدا ہوتی اور نہ ان کی قربانی کا کوئی سوال پیدا ہوتا۔اس واسطے خدا تعالیٰ نے ایک ذبح عظیم کے لئے اس چھوٹی سی قربانی کو ترک کروایا اور ایک ریتلے میدان میں جس میں نہ پانی تھا اور نہ کھانے کی کوئی اور چیز تھی وہاں ان کو اپنی والدہ کے ساتھ چھوڑ دیا گیا اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت نے وہاں پانی کے سامان بھی پیدا کر دیئے اور کھانے کے سامان بھی پیدا کر دیئے۔محض کھانے پینے کے سامان ہی پیدا نہیں کئے بلکہ دنیا جہان کی نعمتیں ان کے لئے مہیا کر دیں، دنیا جہان کے دلوں کی محبت کا اسے مرکز بنادیا اور صرف اس دنیا کے ثمرات ہی نہیں بلکہ ان کو وہ روحانی ثمرات بھی مہیا کئے گئے جن کا مادی دنیا سے کوئی تعلق نہیں اور اس طرح حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام دنیا کے لئے ایک عظیم اسوہ بنے۔ان کا زمانہ اگر چہ ایک محدود زمانہ تھا کیونکہ وہ