انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 124
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۲۴ سورة الطقت کہ شیطان کا سر، شیطان کے معنی ہیں ہلاک ہونے والا یہ لفظ شیط سے نکلا ہے پس حاصل کلام یہ ہے کہ اس کا کھانا ہلاک کن ہے تو جہنم کی جڑ تکبر اور خود بینی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کے مطابق اللہ نے قرآن کریم کی ان آیات میں اس بات کی وضاحت کی ہے تو کوئی شخص ایک ہی وقت میں متکبر اور جنتی نہیں بن سکتا۔کیونکہ جس کے دل سے زقوم کا درخت نکلے جس کے دل اور جس کی روح میں دوزخ اور جہنم پرورش پارہی ہے اس کے لئے جنت کے دروازے کیسے کھولے جا سکتے ہیں۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۹۶۲، ۹۶۳) آیت ۱۰۳ تا ۱۰۹ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَعيَ قَالَ يبنى الى ارى في b المَنَامِ انّى اَذْبَحُكَ فَانْظُرُ مَا ذَا تَرى - قَالَ يَابَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصُّبِرِينَ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَ نَادَيْنَهُ اَنْ يَا بُرهِيمُ قَد صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِى دو الْمُحْسِنِينَ : إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلوُا الْمُبِينُ وَفَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ تب ہم نے اس کو ایک حلیم لڑکے کی بشارت دی۔پھر جب وہ لڑکا اس کے ساتھ تیز چلنے کے قابل ہو گیا تو اس نے کہا اے میرے بیٹے ! میں نے تجھے خواب میں دیکھا ہے کہ (گویا) میں تجھے ذیح کر رہا ہوں۔پس تو فیصلہ کر کہ اس میں تیری کیا رائے ہے؟ (اس وقت بیٹے نے ) کہا اے میرے باپ! جو کچھ تجھے خدا کہتا ہے وہی کر۔تو انشاء اللہ مجھے اپنے ایمان پر قائم رہنے والا دیکھے گا۔پھر جب وہ دونوں فرمانبرداری پر آمادہ ہو گئے اور اس (یعنی باپ) نے اس (یعنی رضامندی ظاہر کرنے والے بیٹے ) کو ماتھے کے بل گرا لیا اور ہم نے اس (یعنی ابراہیم ) کو پکار کر کہا۔اے ابراہیم! تو اپنی رؤیا پوری کر چکا ہم اسی طرح محسنوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔یہ یقیناً ایک کھلی آزمائش اور امتحان تھا اور ہم نے اس ( یعنی اسمعیل) کا فدیہ ایک بڑی قربانی کے ذریعہ سے دے دیا اور بعد میں آنے والی قوموں میں اس کا نیک ذکر باقی رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔