انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 126
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۲۶ سورة الصفت جس کا زمانہ رہتی دنیا تک ممتد تھاوہ ابھی آنے والا تھا لیکن انہوں نے اپنی نسلوں کو ایک زمانے تک سنبھالا اور ایک لمبا عرصہ ان نسلوں نے خدا کی راہ میں قربانیاں دیں۔جان کی قربانی نہیں بلکہ زندگی کی قربانی دی۔میں پہلے بھی ان دو چیزوں میں فرق کر کے جماعت کے سامنے اس مسئلہ کو رکھتا چلا آیا ہوں۔ایک ہے جان قربان کر دینا جس کے صلے میں شہادت کا انعام ہے اور ایک ہے اپنی زندگی قربان کر دینا یعنی زندگی کا ہر سانس خدا کی راہ میں قربان کر دینا اور اس کے صلہ میں اجر عظیم کا وعدہ ہے گویا شہادت کی نسبت زندگی کی قربانی کا بہت زیادہ اثر ہے۔بہر حال دعائیں ہوئیں۔خانہ کعبہ کی از سرنو تعمیر ہوئی۔ایک مرکز کا قیام ہوا۔اس مرکز کے انتظام کے لئے ایک نسل پیدا کر دی گئی اور پھر ایک کے بعد دوسری نسل نے اس کا انتظام سنبھالا۔وہ جو اکیلے تھے (یعنی اسماعیل اور اس کی والدہ) ان کی نسل میں سے ایک خاندان کے سپر د پانی کا انتظام اور ایک کے ذمہ صفائی کا انتظام وغیرہ وغیرہ گویا یہ انتظام مختلف شعبوں میں بٹ گیا ہر ایک نے اپنے زمانہ کے حالات اور ذرائع کے مطابق اپنا کام سنبھالا۔یہ سب کچھ اس لئے ہورہا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں پیدا ہونا تھا اور اس تیاری کے لئے ایک عظیم قربانی لی گئی تھی کیونکہ جو آنے والا تھا اس کے استقبال کے لئے اور اس کی عظمت کے پیش نظر اسی عظیم قربانی کی ضرورت تھی۔چنانچہ وہ لوگ جن کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دل کے جذبات کی وجہ سے یہ کہا تھا کہ اے خدا! ان میں سے وہ لوگ جو ایمان پر قائم ہیں تو اپنی رحمتوں کے ثمرات ان کے لئے میسر کرنا اور خدا تعالیٰ نے جواب میں کہا کہ نہیں جو ایمان پر قائم نہیں رہیں گے ان کے لئے بھی میں دنیوی انعامات اور دنیا کی رحمتیں مہیا کروں گا۔پس ان نسلوں کی ان قربانی دینے والی نسلوں کی ان فدائی نسلوں کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کی تیاری کے لئے ہر چیز کی قربانی دینے کے جو ثمرات تھے اس میں ان کو بھی شامل کیا گیا حالانکہ وہ راہ راست سے بھٹک چکے تھے لیکن پھر وہی لوگ اور وہی نسل جن کے آباؤ اجداد نے اتنی عظیم قربانیاں دی تھیں ان کو خدا تعالیٰ کی یہ سرزنش بھی سننی پڑی۔اجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجَ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ کیا تم نے ان ظاہری چیزوں کو سب کچھ سمجھ لیا ہے تمہیں خدمت کے لئے مامور کیا گیا تھا اور تم نے اس عظیم ہستی کے