انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 123
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۲۳ سورة الصفت لِمِثْلِ هذا فَلْيَعلِ الْعَمِلُونَ کہ کام کرنے والوں کو اس قسم کے کام کرنے چاہئیں کہ جن کا آخری انجام ان کے لئے اچھا اور مفید نکلے۔یہ زندگی مختلف کاموں پر مشتمل ہوتی ہے۔بعض کام وقتی اور عارضی نتیجہ پیدا کرنے والے ہوتے ہیں ان میں بھی وہی کام اچھا ہے جس کا انجام اچھا ہو۔بعض اعمال کا نتیجہ ابدی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ان اعمال کا نتیجہ اس دنیا میں نہیں بلکہ اس دنیا سے گزرجانے کے بعد نکلتا ہے۔یہ انسان کے اعمال کا آخری نتیجہ ہے۔اگر اس آخری نتیجہ میں ہم کامیاب ہوں اگر اس لحاظ سے ہمارا انجام بخیر ہو تو پھر ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا کی ٹھنڈی چھاؤں ملتی ہے جس چھاؤں میں بیٹھ کر ہم خدا کی رحمتوں سے بھی سرور حاصل کرتے ہیں اور یہی وہ کامیابی ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعُمِلُونَ اللہ تعالیٰ ہمیں اس قسم کے کاموں کی ہمیشہ توفیق عطا فرما تا رہے تا کہ ہم جب اس دنیا کو چھوڑ کر اس کے حضور حاضر ہوں تو اس کے منہ سے یہ پیارے کلمات ہمارے کان بھی نہیں۔إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَمِلُونَ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے ہی ایسا ہو سکتا ہے اور اسی پر توکل رکھتے ہوئے اس کے فضلوں اور احسان کی ہم امیدرکھتے ہیں۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۲۶۲، ۲۶۳) آیت ۶۳ تا ۶۶ اذلِكَ خَيْرٌ نُزُرًا اَم شَجَرَةُ الزَّقُومِ إِنَّا جَعَلْنَهَا فتْنَةً لِلظَّلِمِينَ إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ ﴿ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيطين حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی ان آیات کا ترجمہ کرتے ہوئے کہ اذلِكَ خَيْرٌ نُزُاً أَم شَجَرَةُ الزَّقُومِ إِنَّا جَعَلْنَهَا فِتْنَةً لِلظَّلِمِينَ إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيطِيْنِ یہ بیان فرمایا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ تم بتلاؤ بہشت کے باغ اچھے ہیں یا زقوم کا درخت جو ظالموں کے لئے ایک بلا ہے وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے یعنی تکبر اور خود بینی سے پیدا ہوتا ہے یہی دوزخ کی جڑ ہے اس کا شگوفہ ایسا ہے جیسا