انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 122
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۲۲ سورة الصفت آخری کامیابی صرف مومنوں کو ہی نصیب ہوتی ہے آخری فتح صرف ان لوگوں کو ہی ملتی ہے جو نہایت عاجزی اور انکسار کے ساتھ اپنے رب کی چوکھٹ پر پڑے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان متکبر ان کو کامیابی کی راہیں کبھی نہیں ملیں گی اور وہ راستے جو ان کیلئے مصیبت بن جائیں گے ان کو وہ خوشی سے قبول کر لیں گے اور نہیں جائیں گے کہ ان کا انجام کیا ہے اور جب وہ اس راستہ پر چل کر اپنے زعم میں خوشی خوشی منزل پر پہنچیں گے تو اس منزل کو نارِ جہنم پائیں گے اور یہ اس لئے ہوگا کہ انہوں نے تکبر کیا ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت برتی۔یہ ایک نہایت ہی بھیانک سزا ہے جو ان لوگوں کیلئے تجویز کی گئی ہے جو تکبر سے کام لیتے ہیں اور جس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کے نشانات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔الہی سلسلہ میں نشانات اور آیات کا ایک دریا بہہ رہا ہوتا ہے اور جماعت مومنین کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ ان آیات اور نشانات کو دیکھے، ان کو سمجھے اور جس غرض کے لئے وہ نشانات ظاہر کئے گئے ہیں اس کو وہ پورا کرے۔اسی طرح جو فائدہ ممکن طور پر وہ اس سے اٹھا سکتی ہو اس سے اٹھائے اور یہ صرف کافروں کے لئے ہی نہیں ، مومنوں کے لئے بھی فرض ہے کہ وہ تکبر کی باریک سے باریک راہوں سے اجتناب کرتے ہوئے آسمانی نشانات اور آیات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ہوں۔خطبات ناصر جلد اول ۲۵۱ تا ۲۵ آیت ۶۱ ۶۲ اِنَّ هذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعمَل العملون اللہ تعالیٰ سورۃ الصافات میں انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر فرماتا ہے۔ایک وہ جو اپنی بداعمالیوں اور اپنے تکبر اور ابا اور خدا تعالیٰ کے انبیاء کے خلاف جدو جہد کرنے کے نتیجہ میں جہنم میں ڈالے گئے اور دوسرا وہ گروہ جنہوں نے فروتنی اور عاجزی سے اپنی زندگی کو گزارا اور خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستہ پر چل کر اعمال صالحہ بجالائے۔وہاں ایک لمبا مضمون بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اس گروہ کے متعلق جو جنت میں ہے۔فرماتا ہے۔اِنّ هذا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیم کہ یہ مومنوں کی حالت بے شک بڑی کامیابی ہے اور ساتھ ہی فرمایا