انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 91 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 91

۹۱ سورة سبا تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث دہراؤں گا ) ان کو وہ مٹادے گا تو بہ کے نتیجے میں۔تمہاری بدیوں کو وہ مٹاتا جائے گا تمہاری زندگی میں۔انسان ضعیف ہے غلطی کر جاتا ہے لیکن انسان کو متکبر نہیں ہونا چاہیے کہ سمجھنے لگے کہ میں غلطی نہیں کر سکتا۔اس لئے ہر آن اپنے خدا کی طرف رجوع کر کے اس کے حضور تو بہ کرنی چاہیے اور ہر آن خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کر کے اپنی غفلتوں کو مٹاتے چلے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔تو بشارت یہ دی کہ تو بہ کرو گے تمہاری بدیوں کو مٹادیا جائے گا۔یہ منفی پہلو ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمت کا ایک یہ پہلو ہے یعنی صاف کر دی جائے گی زمین بدیوں سے اور دوسرا یہ کہ تمہارے لئے جنت کا سامان پیدا کیا جائے گا۔قرآن کریم سے ظاہر ہے کہ جنت دو ہیں۔ایک اس زندگی کی جنت ، ایک مرنے کے بعد کی جنت۔اس زندگی میں بھی جنت جیسی کیفیات پیدا ہو جائیں گی تمہارے گھروں میں اور وہ ابدی زندگی جو مرنے کے بعد انسان کو حاصل ہوتی ہے وہ بھی جنتی زندگی ہوگی۔جنت سے باہر خدا تعالیٰ کے غضب کی جہنم میں رہنے والی زندگی نہیں ہوگی۔تیسرے اس بشارت والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہر بدی رسوائی ہے، بے عزتی ہے اور سب سے بڑی رسوائی وہ ہے جو حقارت کی نگاہ انسان دیکھے اپنے لئے اپنے رب کی آنکھ میں۔یہاں فرمایا اللہ اپنے نبی کو رسوا نہیں کرے گا، نہ ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے۔یعنی ہمارے لئے یہ بشارت دی گئی یہاں کہ جس عزت کے مقام پر الہی کو رکھا جائے گا اس کی معیت میں ، اس کے ساتھ ہی تو بہ کرنے والے مومنوں کو رکھا جائے گا۔اور چوتھی یہاں یہ بات بتائی کہ ان کا نور ان کے آگے آگے بھی بھاگتا جائے گا اور دائیں پہلو کے ساتھ بھی۔یہاں یہ بتایا کہ جو عقیدہ اور عملا تو بہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے اور ایسے اعمال بجالاتے ہیں جن میں کوئی ملاوٹ اور کھوٹ نہیں ہوتا، جن میں کوئی ریا اور تکبر نہیں ہوتا ، جن میں کوئی دکھاوا نہیں ہوتا بلکہ سارے کے سارے اعمال اللہ تعالیٰ کے پیار کے چشمے سے ابلتے ہوئے باہر آتے ہیں اور خدا کے نزدیک مقبول ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ایک نور عطا کرتا ہے۔یہ جونور عطا کیا جاتا ہے یہ خود ایک لمبا مضمون اسلام میں بیان ہوا ہے۔ایک پہلو اس کا یہ بھی ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی فراست سے ڈرتے رہا کرونور فراست دیا جاتا ہے اسے۔