انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 92 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 92

تفسیر حضرت خلیفہ امسیح الثالث ۹۲ سورة سبا بہر حال ایک نور مومن کو عطا ہوگا اور یہ نور جو ہے یہ محض حال کو یعنی جو آج کا وقت ہے صرف میری زندگی کے، آپ کی زندگی کے آج کو روشن کرنے والا نہیں ہوگا بلکہ آگے آگے بھاگتا جائے گا یعنی مستقبل کو بھی منور کرنے والا ہوگا اور اس نور کے نتیجے میں دائیں طرف بھی روشن ہوگی ( دایاں دین اسلام کی طرف اشارہ کرتا ہے ) یعنی صحیح میلان دین کی طرف پیدا کرے گا یعنی دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا حوصلہ بھی دے گا اور عزم بھی دے گا اور توفیق بھی دے گا۔مستقبل روشن ہوگا۔دین کی طرف میلان قائم رہے گا اور خاتمہ بالخیر ہوگا اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ۔اور آخر میں یہ بتایا کہ ان کی مقبول دعا اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرے گی۔انہیں یہ دعا کرنے کی توفیق ملے گی کہ کہ کے بعد میں ایک اور فقرہ بیچ میں لانا چاہتا ہوں۔کوئی انسان جتنی مرضی رفعت حاصل کرلے وہ انتہائی رفعت تک نہیں پہنچتا۔اس لحاظ سے اس میں نقص اور کمال کی کمی رہتی ہے۔تو ان کو اس دعا کی توفیق ملے گی کہ ) اے خدا! ہمارے نور کو اور بھی کامل کر اور یہ دعا ان کی قبول کی جائے گی اور ان کا نور "کمال" سے کمال کی طرف بڑھتا چلا جائے گا اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے سایہ میں حفاظت اور تقویٰ کی زندگی گزاریں گے اور خدائے قدیر کی عظیم قدرتوں کے جلوے ان کی اس زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ان پر ظاہر ہوتے رہیں گے۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۱۳۹۱ تا ۳۹۵) دو ایک باتوں میں قدرتی تفاوت اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تقسیم کار کے سوا اسلام نے عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق دیئے ہیں۔اُس نے ان میں سرے سے کوئی فرق ہی تسلیم نہیں کیا۔سارا قرآن دونوں میں بحیثیت انسان ہونے کے مکمل مساوات کے ذکر سے پر ہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل اور دائمی شریعت لے کر دنیا میں مبعوث ہوئے تو کس کی طرف مبعوث ہوئے۔قرآن کریم خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کر کے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا وَ لَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ترجمہ: اور ہم نے تجھ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے جو خوشخبری دیتا اور ہوشیار کرتا ہے لیکن انسانوں میں سے اکثر اس حقیقت سے واقف نہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو الناس کی طرف سے رسول